بھارتی فضائیہ کا طیارہ تالاب میں گر کر تباہ؛ 2 افسران سوار تھے، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بھارتی شہر الہٰ آباد میں انڈین ایئرفورس کا ایک اور طیارہ خزان رسیدہ پتوں کی طرح جھولتے ہوئے تالاب برد ہوگیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ ریاست اترپردیش کے شہر پریاگ راج میں واقع کے پی کالج کے عقب میں پیش آیا۔
اس ایک انجن والے چھوٹے طیارے نے معمول کی تربیتی مشن کے لیے انڈین ایئر بیس سے پرواز بھری تھی۔
اس طیارے میں ایک سینیئر پائلٹ اپنے جونیئر زیر تربیت پائلٹ کو تربیتی پرواز کے لیے لے گئے تھے تاہم طیارہ واپس نہیں آیا۔
کنٹرول ٹاور سے رابطہ منقطع ہونے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا لیکن کوئی سراغ نہ مل سکا البتہ ایک پولیس اسٹیشن میں مقامی افراد نے طیارہ گرنے کی اطلاع دی۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ ایک چھوٹا طیارہ فضا میں جھولتے ہوئے تالاب میں گرا اور آدھا ڈوب گیا جب کہ اس میں کوئی شخص موجود نہیں ہے۔
جائے حادثہ پر پہنچنے والی ریسکیو ٹیم نے تصدیق کی کہ تالاب میں گرنے والا طیارہ وہی تھا جس کی تلاش کی جا رہی تھی۔
طیارے میں سوار دونوں پائلٹس نے خرابی کا معلوم ہونے پر دوران پرواز ہی طیارے سے چھلانگ لگائی اور پیراشوٹس کے ذریعے زمین پر اتر گئے۔
حادثے میں پائلٹس محفوظ رہے، انھیں معمولی چوٹیں آئی ہیں اور قریبی ملٹری اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاحال حادثے کی وجہ کا تعین نہیں ہوسکا۔
بھارتی فضائیہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ طیارہ حادثے کی وجہ جاننے کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔
یاد رہے کہ بھارت میں ایسے حادثات معمول کی بات ہیں اور ایسی کسی انکوائری کمیٹی کی کبھی کوئی رپورٹ سامنے آئی اور نہ ایسے حادثات کا تدارک کیا گیا۔
Caught on camera: IAF’s two-seater microlite aircraft meets with accident in UP's Prayagraj, crew safe pic.
یاد رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی بھارت میں ایک نجی ایئرلائن کا چھوٹا طیارہ حادثے کا شکار ہوا تھا۔ بھوبنیشور سے رورکیلا جانے والا ایک 9 نشستوں پر مشتمل نجی طیارہ رورکیلا سے تقریباً 10 کلومیٹر قبل ایمرجنسی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔