پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ، وزیراعظم نے ٹرمپ کی دعوت قبول کرلی
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق غزہ میں پائیدار قیام امن کیلیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دی جس کو انہوں نے قبول کرلیا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کی اپنی مسلسل کوششوں کے سلسلے میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہوں گے۔
مزید پڑھیںنیتن یاہو نے ٹرمپ کے ’غزہ بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت قبول کر لی
غزہ بورڈ آف پیس کو اقوام متحدہ کا متبادل بنانے کا کوئی ارادہ نہیں، ٹرمپ
یو اے ای کے بعد بحرین نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کی امریکی دعوت قبول کر لی
پاکستان نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ یہ کاوشیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی، بین الاقوامی قانونی حیثیت اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین کے ساتھ سیاسی عمل ناگزیر ہے۔
پاکستان نے امید ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے گی۔
پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ ان اہداف کا حصول ممکن ہو اور فلسطین کے مظلوم عوام، بالخصوص ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کا خاتمہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور ترکیہ نے بھی بورڈ آف پیس میں بطور رکن شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ف پیس میں شمولیت بورڈ ا ف پیس میں بورڈ آف پیس پاکستان نے کی دعوت
پڑھیں:
امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔
واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز