کراچی کے گل پلازہ میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے بعد ملبے میں اب لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے۔

مزید پڑھیں: کراچی: گل پلازہ کی دکان سے 20 سے 25 لاشیں مل گئیں، کل تعداد 60 تک پہنچ گئی

ان باقیات میں ٹوٹی ہوئی ہڈیاں اور ٹوٹے ہوئے دانت شامل ہیں۔ ہڈیاں ٹوٹی ہوئی ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے سیمپل بھی نہیں لیے جا سکتے، جس کی وجہ سے ورثا کو باقیات حوالے کرنے میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔

ڈاکٹر سمیعہ کے مطابق گل پلازہ سے ملنے والی باقیات اس حد تک جل چکی ہیں کہ ڈی این اے کا حصول قریباً ناممکن ہو گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حالیہ موصول ہونے والے انسانی اعضا ناقابل تجزیہ حالت میں ہیں، اور آگ کی تپش اور ہڈیوں کے ٹوٹنے کے باعث ہڈیوں کے اندر موجود ’میڈولری کینال‘ سے ڈی این اے ختم ہو چکا ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے ایدھی اور چھیپا کے رضا کاروں سے گزارش کی ہے کہ وہ باقیات ملنے والے فلور اور دکان کا درست پتا فراہم کریں۔ ابتدائی طور پر 6 افراد کی شناخت چہرے کے ذریعے کی گئی جبکہ ایک کی شناختی کارڈ کے ذریعے ممکن ہوئی۔

’باقی افراد کی شناخت میں مشکلات ہیں، اور متاثرین کے پیاروں کی تلاش کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ باقیات کس مخصوص جگہ یا دکان سے اٹھائی گئی ہیں۔‘

مزید پڑھیں: سانحہ گل پلازہ: مزید 3 لاشوں کی شناخت، رمپا پلازہ غیر محفوظ قرار

انہوں نے کہاکہ اب تک 30 سے زیادہ انسانی باقیات موصول ہو چکی ہیں اور مزید آنے والے اعضا کا معائنہ جاری ہے۔

ڈاکٹر سمیعہ نے بتایا کہ جسم کے مختلف حصے ناقابل شناخت ہیں اور بعض صورتوں میں صرف جنس مرد یا خاتون کا اندازہ لگانا ہی ممکن ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews انسانی باقیات ڈی این اے کراچی گل پلازہ وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انسانی باقیات ڈی این اے کراچی گل پلازہ وی نیوز انسانی باقیات ڈی این اے گل پلازہ کی شناخت

پڑھیں:

 کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر

اسلام آباد،اوورسیز چیمبر آف کامرس سروے (overseas chamer commerce)میں بتایا گیا کہ پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور ہوگیا، 70 سے 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر ہوئے۔

سروے میں بتایا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9 فیصد پوائنٹس کمی سے مثبت 13 فیصد رہ گیا، خدمات کے شعبے میں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔

اوورسیز چیمبر سروے کے مطابق مینوفیکچرنگ کے شعبے میں کاروباری اعتماد 7 پوائنٹس کم ہوگیا، صرف ریٹیل سیکٹر میں کاروباری اعتماد 3 پوائنٹس اضافے سے مثبت 20 فیصد ہوگیا۔

مزید پڑھیں:سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع

سروے میں یہ بھی بتایا گیا کہ نئی سرمایہ کاری انڈیکس 10 پوائنٹس کمی سے صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان