یہاں صرف سوال کرنے پر بھی مقدمہ درج ہوجاتا ہے لیکن میں لڑوں گی، نیہا سنگھ راٹھور
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
بھارتی گلوکارہ نے اپنے خلاف درج مقدمات اور جاری قانونی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کررہی ہیں اور آئندہ بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات رکھتی رہیں گی۔ اسلام ٹائمز۔ بھوجپوری لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور نے اپنے خلاف درج مقدمات اور جاری قانونی کارروائی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل طور پر عمل کر رہی ہیں اور آئندہ بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی بات رکھتی رہیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس تفتیش میں وہ تمام تعاون فراہم کیا ہے جو ان کی ذمہ داری بنتی تھی۔ حال ہی میں "آئی اے این ایس" سے گفتگو میں نیہا سنگھ راٹھور نے بتایا کہ ان کا بیان درج کیا جا چکا ہے اور اب پولیس اس بیان کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف بنائے گئے ماحول میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی مقدمات درج ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص محض سوال اٹھا دے یا رائے کا اظہار کر دے تو اسے قانونی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
گلوکارہ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی جاتی ہے اور گالیاں دی جاتی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ پیچھے ہٹنے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کریں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں اظہارِ خیال کو برداشت کرنے کا دائرہ مسلسل محدود ہوتا جا رہا ہے اور اختلافِ رائے رکھنے والوں کو آسانی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ نیہا سنگھ راٹھور نے واضح کیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گی اور جو بھی حکم سپریم کورٹ کی جانب سے آئے گا، اسی کے مطابق عمل کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر لڑائی لڑنی پڑی تو وہ آئینی طریقے سے لڑیں گی اور اپنی بات قانون کے سامنے رکھیں گی۔
یہ معاملہ جموں و کشمیر کے پہلگام میں پیش آئے دہشت گردانہ حملے کے بعد سامنے آیا تھا۔ حملے کے بعد نیہا نے سوشل میڈیا پر کچھ پوسٹس شیئر کی تھیں، جن میں ایک متنازع بھوجپوری گانا بھی شامل تھا۔ الزام ہے کہ اس گانے اور پوسٹس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور حکومت کے خلاف قابلِ اعتراض تبصرے کئے گئے۔ ان ہی الزامات کی بنیاد پر لکھنؤ اور وارانسی میں ان کے خلاف متعدد ایف آئی آر درج کی گئیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ان پوسٹس سے ملک کی سالمیت اور خودمختاری پر منفی اثر پڑا اور یہ مواد پاکستان میں بھی شیئر ہوا، جہاں اسے بھارت کے خلاف استعمال کیا گیا۔ اس سلسلے میں حضرت گنج کوتوالی میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور اب معاملہ تفتیش اور عدالتی عمل کے اگلے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ انہوں نے کے خلاف ہے اور
پڑھیں:
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کی نئی لہر
اسلام ٹائمز: یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔ خصوصی رپورٹ:
بحرینی حکام نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے تحت جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو تحلیل کرنے کا فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ یہ ادارہ بحرین میں شیعہ آبادی کی سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی تنظیم سمجھا جاتا ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مذکورہ تنظیم عملاً ہر قسم کی سیاسی یا جماعتی سرگرمیوں سے دور رہی ہے۔ تاہم اس اقدام کو بحرین میں شیعہ اداروں کے خلاف جاری دباؤ اور کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ اپنے قیام کے آغاز سے ہی یہ تنظیم ایک ثقافتی، سماجی اور دینی پلیٹ فارم کے طور پر معروف رہی ہے، جو بنیادی طور پر سماجی اور تربیتی امور پر توجہ دیتی رہی ہے۔
یہ فیصلہ محض ایک انتظامی اقدام نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی اثرات بھی ہیں۔ بحرین کے شیعہ معاشرے میں اس تنظیم کی اہمیت کے پیش نظر، اسے نشانہ بنانا وسیع حلقوں کی نظر میں شیعہ برادری کے خلاف محدودیت پسند پالیسیوں کا تسلسل سمجھا جا رہا ہے، خصوصاً گزشتہ برسوں میں اس طبقے کے خلاف کیے جانے والے متعدد اقدامات کے تناظر میں۔ یہ تنظیم، جو اس سے قبل بھی مختلف سخت اور غیر منصفانہ کارروائیوں کا نشانہ بن چکی ہے، 1972ء میں بحرین کے ممتاز دینی علماء کے ایک گروہ نے آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم کی قیادت میں قائم کی تھی۔ بعد ازاں یہ بحرین اور خطے کی سب سے بڑی ثقافتی اور سماجی تنظیموں میں شمار ہونے لگی۔
اس تنظیم کی تحلیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984ء میں اس تنظیم کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001ء تک برقرار رہی۔ بعد ازاں قومی منشور پر ہونے والے ریفرنڈم اور ملک میں نسبتاً سیاسی کشادگی کے دور میں اسے دوبارہ سرگرمیوں کی اجازت دی گئی۔ اس کے بعد جون 2016ء میں، شیعہ مذہبی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران، حکام نے ایک مرتبہ پھر اس تنظیم کو تحلیل کرنے کا حکم جاری کیا۔ 9 جون 2022ء کو تحلیل کا فیصلہ منسوخ کر دیا گیا اور تنظیم نے اپنی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیں، تاہم اس کی سرگرمیاں مسلسل مختلف پابندیوں کے حصار میں رہیں۔
ان پابندیوں میں قانونی و انتظامی کارروائیاں، تنظیم سے وابستہ ذمہ داران کے خلاف مقدمات، بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تحلیل اور بعض سرگرمیوں کی جبری معطلی شامل تھیں۔ بالآخر تنظیم کے سربراہ اور تین دیگر کارکنان کو بھی اسی ادارے میں اپنی سرگرمیوں کی بنیاد پر گرفتار کر لیا گیا، جسے اپوزیشن اور مخالف حلقوں کے ساتھ سکیورٹی طرزِ عمل کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔ سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر (19) کے اجرا کے ساتھ اسلامی آگاہی سوسائٹی ایک بار پھر اپنی مسلسل بندشوں اور پابندیوں کی تاریخ کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت نے بحرین میں مذہبی آزادیوں کے بارے میں مزید سوالات کو جنم دیا ہے، حالانکہ حکومت خود کو رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا داعی قرار دیتی ہے۔
اس تنظیم کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی تاریخی ترتیب کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ تحلیل کو محض ایک انتظامی یا قانونی اختلاف قرار دینا مشکل دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ 54 برس قبل اپنے قیام سے لے کر آج تک یہ ادارہ اپنی ثقافتی، سماجی اور دینی شناخت کے حوالے سے جانا جاتا رہا ہے۔ دوسری جانب، تنظیم کو بند کرنے کے اقدامات کو ملک کے سب سے بڑے سماجی طبقے کے حوالے سے حکومتی تنگ نظری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق یہ پالیسیاں معاشرے کو قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جو باہمی اعتماد کو کمزور کرتی ہیں اور بحرین کے وسیع ترین عوامی طبقے کو سیاسی و سماجی طور پر حاشیے پر دھکیلنے کے رجحان کو مزید تقویت دیتی ہیں۔