گرین لینڈ پر ٹرمپ کے دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے، برطانوی وزیراعظم کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لندن: برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ گرین لینڈ کے معاملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ ٹیرف یا دباؤ کے باوجود برطانیہ اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
برطانوی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خارجہ پالیسی اور خودمختاری جیسے معاملات پر برطانیہ کسی بھی قسم کی دھمکی کے سامنے نہیں جھکے گا۔
سر کیئر اسٹارمر کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ کے حوالے سے برطانیہ کا مؤقف اصولوں پر مبنی ہے اور اسے معاشی دباؤ کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا، عالمی معاملات میں برطانیہ قانون، سفارت کاری اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق فیصلے کرتا رہے گا۔
اس موقع پر اپوزیشن لیڈر کیمی بیڈینوک نے بھی گرین لینڈ کے معاملے پر وزیراعظم کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قومی خودمختاری اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے حکومت کا مؤقف درست ہے۔
پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران چیگوس جزائر کی خودمختاری کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ کیمی بیڈینوک نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اپنی ملکیت والے علاقے دے رہا ہے اور اس کے ساتھ استحقاق کے نام پر 35 ارب پاؤنڈ ادا کرنے کا فیصلہ بھی کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ وزیراعظم اس معاہدے کو ختم کر کے یہ رقم برطانوی مسلح افواج کی بہتری کے لیے کیوں مختص نہیں کرتے۔
چیگوس جزائر کے معاملے پر جاری بحث نے ایوان میں گرما گرم ماحول پیدا کر دیا، حکومت نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی ذمہ داریوں کے تناظر میں ناگزیر قرار دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے معاملے پر گرین لینڈ
پڑھیں:
بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔
اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔