ڈیوس، غزہ پیس بورڈکا مقصد مسئلے کےمستقل حل کی حمایت کرنا ہے،
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
ڈیوس (ویب ڈیسک)غزہ کے لئے تشکیل بورڈ آف پیس کا مشترکہ بیانپاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکی، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے اپنے رہنماؤں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے دی گئی دعوت کا خیرمقدم کیا۔وزراء نے بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے اپنے ممالک کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا۔ ہر ملک اپنے متعلقہ قانونی اور دیگر ضروری طریقہ کار کے مطابق شمولیت کی دستاویزات پر دستخط کرے گا، وزراء نے صدر ٹرمپ کی زیرقیادت امن کی کوششوں کے لیے اپنے ممالک کی حمایت کا اعادہ کیا، وزراء نے ایک عبوری انتظامیہ کے طور پر بورڈ آف پیس کے مشن کے نفاذ کی حمایت کرنے کے لیے اپنے ممالک کے عزم کا اعادہ کیا،غزہ کے تنازع کو ختم کرنے کے جامع منصوبے میں ترتیب دیا گیا ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے ذریعے توثیق کی گئی ہے، بورڈ آف پیس کا مقصد مستقل بنیادوں پر حل کی حمایت کرنا اور غزہ، اور بین الاقوامی قانون کے مطابق فلسطینیوں کے حق خود ارادیت اور ریاستی حیثیت پر مبنی منصفانہ اور دیرپا امن کو آگے بڑھاناہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بورڈ ا ف پیس کی حمایت
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔