اسلام آباد:

وفاقی حکومت کی جانب سے رواں مالی سال 26-2025 کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر) میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 280 ارب روپے زیادہ بیرونی قرضہ لینے کا انکشاف ہوا ہے اور اس دوران قرض اور گرانٹ کی مد میں مجموعی طور پر 1272 ارب روپے موصول ہوئے جبکہ عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) سے ملنے والا قرض اس کے علاوہ ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے لیے جانے والے قرضوں اور گرانٹس کے اعداد و شمارکے مطابق حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ایک ہزار 254 ارب روپے بیرونی قرض لیا ہے جو گزشتہ سال کی نسبت 29 فیصد یعنی 280 ارب روپے زیادہ قرض ہے۔

اسی طرح جولائی تا دسمبر پاکستان کو 17 ارب 67 کروڑ روپے کی گرانٹ بھی ملی، جولائی تا دسمبر مجموعی بیرونی مالی معاونت ایک ہزار 272 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا، امریکی کرنسی میں پاکستان کو 6 ماہ میں 4 ارب 50 کروڑ ڈالر موصول ہوئے۔

پاکستان میں ڈالر کی مد میں گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کی نسبت 904 ملین زیادہ ملے، گزشتہ مالی سال پہلے 6 ماہ میں 3 ارب 60 کروڑ ڈالر حاصل ہوئے تھے۔

حکام کے مطابق 6 ماہ میں نان پراجیکٹ ایڈ 785 ارب روپے اور پراجیکٹ معاونت 487 ارب روپے رہی ہے، اس میں بجٹ سپورٹ کے لیے 458 ارب 72 کروڑ روپے حاصل ہوئے، سعودی عرب نے پاکستان کو 170 ارب روپے کی تیل کی سہولت دی، اسلامی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو 137 ارب روپے قرض دیا۔

پاکستان کو پروجیکٹ معاونت  کی مد میں پاکستان کو 487 ارب روپے حاصل ہوئے اور موجودہ مالی سال 4 ہزار 507 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لینے کا ہدف ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کو ارب روپے مالی سال ماہ میں

پڑھیں:

اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان

تصویر، فیس بک

اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) نے مالی سال 26-2025 کی ادائیگیوں کے کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان کردیا۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق تمام ڈرائینگ اور ڈسبرسنگ آفیسرز کو حالیہ کلیمز 12 جون تک جمع کرانا ہوں گے۔

اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء تک جاری کردہ ٹوکنز پر تمام غیرمنظور شدہ بلوں کو دوبارہ جمع کرانے کی تاریخ 15 جون ہوگی۔

اعلامیے کے مطابق اے جی پی آر اسلام آباد اور ذیلی دفاتر کےاسائنمنٹ اکاؤنٹس کےلیے ریلیز جمع کرانے کی آخری تاریخ 19 جون ہوگی۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 12 جون 2026ء کے بعد اعزازیہ کا کوئی کلیم قبول نہیں کیا جائے گا۔ موجودہ مالی سال سے متعلق تنخواہ کے چیک رواں مالی سال کے اختتام پر زائد المعیاد ہوجائیں گے۔

اے جی پی آر کے اعلامیے کے مطابق 30 جون 2026ء کے بعد موجودہ مالی سال کےلیے کوئی متبادل چیک جاری نہیں کیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ