قومی و صوبائی اسمبلیز میں خواتین کیلئے مختص 192 مخصوص نشستیں ختم کرنے کا بل پیش
اشاعت کی تاریخ: 21st, January 2026 GMT
سٹی 42: قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیز میں خواتین کے لیے مختص 192 مخصوص نشستیں ختم کرنے کے لیے آئین میں ترمیم کا بل پیش کر دیا گیا، خواتین کی مخصوص نشستیں ختم کرنے کا بل اپوزیشن رکن اسلم گھمن نے قومی اسمبلی میں پیش کیا۔
آئین میں ترمیم کے اس بل میں آئین کے آرٹیکل 51 اور آرٹیکل 106 میں ترمیم تجویز کی گئی ہے، آئین کے آرٹیکل 51 کے تحت قومی اسمبلی میں خواتین کے لئے 60 مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں، قومی اسمبلی میں صوبہ بلوچستان کے لئے 4، کے پی کے 10، پنجاب 32 ، سندھ کے لئے 14 خواتین کے لئے مخصوص نشستیں شامل ہیں۔
بارشیں! این ڈی ایم اے نے الرٹ جاری کردیا
قومی اسمبلی میں خواتین کی مخصوص نشستوں کے متعلق آئین کے آرٹیکل 51 میں تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص کردہ نشستوں کی غرض کے لئے ہر ایک صوبہ مع وفاقی حکومت کو ساتھ حلقہ ہائے انتخاب میں تقسیم کیا جائے، ان مخصوص نشستوں پر قانون کے مطابق انتخابی حلقہ کے براہ راست اور آزادانہ ووٹ کے ذریعے ارکان منتخب کیے جائیں۔
بل کا متن میں صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں کے متعلق آئین کے آرٹیکل 106 میں بھی ترمیم تجویز کردی گئی ہے، آرٹیکل 106 کے تحت صوبائی اسمبلی بلوچستان میں خواتین کے 11 ،پنجاب اسمبلی میں 66 ،کے پی کے اسمبلی میں 26 ،اور سندھ اسمبلی میں خواتین کے لئے 29 مخصوص نشستیں رکھی گئی ہیں۔
نشے کی حالت میں ڈرائیونگ ؛ سخت سزا کا بل پیش
متن کے مطابق آرٹیکل 106 میں تجویز کردہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ خواتین کے لئے مخصوص نشستوں کے غرض کے لئے ہر ایک صوبہ کو شق (1) کے تحت مقررہ حلقہ ہائے انتخاب کی تعداد تقسیم کیا جائے، ہر صوبے کے لئے مخصوص خواتین کی نشستوں پر قانون کے مطابق براہ راست انتخاب کیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی میں آئین کے آرٹیکل صوبائی اسمبلی میں خواتین کے خواتین کے لئے مخصوص نشستیں مخصوص نشستوں کے لئے مخصوص خواتین کی آرٹیکل 106
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز