محفوظ سفر کے لیے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکورٹی انتظامات مکمل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260122-08-14
کوئٹہ (مانیٹر نگ ڈ یسک ) حکومتی کاوشوں سے بلوچستان میں محفوظ سفر کے لیے جعفر ایکسپریس میں جدید سیکورٹی انتظامات مکمل کر لیے گئے۔وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس کی سیکورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ بھی لیا اور جعفر ایکسپریس میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس بی کے سی بوگی کو مؤثر اقدام قرار دیا۔حنیف عباسی نے فول پروف سیکورٹی انتظامات پر پاک فوج اور ایف سی بلوچستان نارتھ کی پیشہ ورانہ کاوشوں کو سراہا۔ان کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس کو بلوچستان کے مسافروں کے لیے محفوظ، پْر اعتماد اور تسلی بخش بنا دیا گیا ہے، ریلوے ٹریکس کی 24 گھنٹے نگرانی، جدید کیمروں کی تنصیب اور ٹرین میں مناسب سیکورٹی اسٹاف کی دستیابی بھی یقینی بنائی گئی ہے، پاک فوج اور ایف سی بلوچستان کی مؤثر سیکورٹی کی بدولت بلوچستان کے عوام کا ریلوے کے سفر پر اعتماد بحال ہو رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جعفر ایکسپریس
پڑھیں:
نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔
سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں