رمضان المبارک نزول قرآن اور تقویٰ کے حصول کا مہینہ ہے‘ روبینہ فرید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (پ ر) نگراں تاریخ جماعت کمیٹی اور رکنِ ضلعی شوریٰ روبینہ فرید نے کہا ہے کہ روزوں کا اصل مقصد تقویٰ کا حصول ہے اور رمضان المبارک تقویٰ اختیار کرنے کا ایک بہترین اور قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔ ضلع شمالی کے تحت منعقدہ اجتماعِ امیدواران میں استقبال رمضان کے موضوع پر درس دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک ہمیں تقویٰ اختیار کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننے اور اقامتِ دین کے عملی کاموں میں خود کو سرگرم کرنے کا درس دیتا ہے۔ تقویٰ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ دین کے غلبے کیلیے جدوجہد کرنا بھی تقویٰ کا بنیادی تقاضا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآنِ مجید نازل کیا گیا، اس لیے اس مہینے میں قرآن سے مضبوط تعلق قائم کرنا، توبہ و استغفار کو معمول بنانا نہایت ضروری ہے، تقویٰ کا مرکز دل ہے اس لیے رمضان المبارک سے قبل دل کی اصلاح اور دل کو بدگمانی‘ بغض‘ کینے اور حسد سے پاک کرنا ضروری ہے۔ نبی کریم ؐ شعبان المعظم سے ہی صحابہ کرام ؓکو رمضان کی تیاری کی تاکید کرتے تھے اس لیے ہمیں بھی ماہِ شعبان ہی میں رمضان المبارک کی منصوبہ بندی کر لینی چاہیے تاکہ یہ بابرکت مہینہ غفلت میں ضائع نہ ہو، یہ چند دنوں کے روزے ہیں، انہیں پورا کیا جائے اور اللہ کی کبریائی بیان کی جائے، اللہ کی کبریائی کا تقاضا یہ بھی ہے کہ معاشرے میں رائج باطل نظام کے خلاف آواز بلند کی جائے اور پورے شعور کے ساتھ یہ اعلان کیا جائے کہ دنیا اور معاشرہ صرف اللہ کے نظام کے تحت ہی صحیح معنوں میں چل سکتا ہے۔ لا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ کا اعلان محض زبانی نہیں بلکہ شعوری اور عملی ہونا چاہیے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کی حقیقی قدر پہچاننے اور تقویٰ کے تقاضوں پر پورا اترنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک
پڑھیں:
چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔