عوامی ریفرنڈم کے نتائج خوش آئند ہیں ،پروفیسرمحبوب
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آبا د(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے ضلعی امیرپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ،جنرل سیکرٹری یاسراقبال کھارانے بلدیاتی ایکٹ کے خلاف منعقدہ عوامی ریفرنڈم کے نتائج کو خوش آئند اور عوامی شعور کاترجمان قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام نے بڑی تعداد میں اپنی رائے کااظہار کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک بااختیار، شفاف اور جمہوری بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔ ریفرنڈم میں عوام کی بھرپور شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ شہری اپنے بنیادی جمہوری حقوق سے باخبر ہو چکے ہیں اور اب کسی بھی عوام دشمن قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ عوام نے ووٹ کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہو سکتے۔ یہ نتائج حکومت کے لیے ایک واضح انتباہ ہیں کہ وہ عوامی رائے کا احترام کرے اور بلدیاتی ایکٹ میں ایسی بنیادی اصلاحات کرے جو حقیقی معنوں میں عوام کو بااختیار بنائیں۔ بلدیاتی نظام جمہوریت کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو کمزور کر کے جمہوری استحکام ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ریفرنڈم اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام روایتی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں اور اپنے مستقبل کے فیصلوں میں براہِ راست شریک ہونا چاہتے ہیں ۔ عوامی شعور کی یہ بیداری اس جدوجہد کو مزید تقویت دے گی۔ جماعت اسلامی ہر سطح پر عوام کے حقِ حکمرانی کیلئے جدوجہد جاری رکھے گی ۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلدیاتی نظام میں شفافیت، خودمختاری اور احتساب کو یقینی بنایا جائے گا۔عوام کا یہ فیصلہ آنے والے دنوں میں سیاسی سمت کا تعین کرے گا۔ یہ تحریک کسی فرد یا جماعت نہیں بلکہ عوام کے حق اور مستقبل کی جنگ ہے۔ حکومت نے اگر عوامی فیصلے کو نظرانداز کیا تو عوامی دباؤ مزید بڑھے گا اور احتجاجی تحریک کو وسعت دی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہ عوام
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔