طالبان رجیم میں قحط کا راج، لاکھوں افغان بھوک کے دہانے پر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
افغانستان میں طالبان رجیم کے زیرِ سایہ معاشی اور غذائی بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افغان شہری بھوک، فاقہ کشی اور شدید غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نااہل طالبان رجیم کی ناقص اور ظالمانہ پالیسیوں کے باعث ملک ایک بڑے انسانی المیے کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔
افغان جریدے ”ہشت صبح”کے مطابق طالبان رجیم میں لاکھوں افراد شدید بھوک اور جان لیوا مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غذائی بحران بے قابو ہو چکا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے بتایا کہ افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں غذائی بحران ریکارڈ سطح پر رہا، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
ہشت صبح کے مطابق مختلف ممالک سے ملک بدر کیے گئے افغان مہاجرین کی واپسی سے غربت اور غذائی بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث عالمی امداد کی معطلی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افغان شدید بھوک اور قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
جریدے کے مطابق طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں، انتہاپسندانہ اقدامات اور دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی نے افغانستان کو معاشی کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں عوام بھوک اور بے بسی کی زندہ تصویر بن چکے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ قابض افغان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کر کے عوام کی فلاح و بہبود، روزگار اور غذائی تحفظ کو اپنی ترجیح بنائے، بصورت دیگر افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان رجیم کے مطابق
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔