Daily Mumtaz:
2026-07-24@06:41:22 GMT

طالبان رجیم میں قحط کا راج، لاکھوں افغان بھوک کے دہانے پر

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

طالبان رجیم میں قحط کا راج، لاکھوں افغان بھوک کے دہانے پر

افغانستان میں طالبان رجیم کے زیرِ سایہ معاشی اور غذائی بحران خطرناک حد تک شدت اختیار کر گیا ہے، جہاں لاکھوں افغان شہری بھوک، فاقہ کشی اور شدید غربت کا شکار ہو چکے ہیں۔ نااہل طالبان رجیم کی ناقص اور ظالمانہ پالیسیوں کے باعث ملک ایک بڑے انسانی المیے کی لپیٹ میں آ چکا ہے۔

افغان جریدے ”ہشت صبح”کے مطابق طالبان رجیم میں لاکھوں افراد شدید بھوک اور جان لیوا مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ غذائی بحران بے قابو ہو چکا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے جریدے نے بتایا کہ افغانستان میں ایک کروڑ 70 لاکھ افراد شدید غذائی قلت میں مبتلا ہیں۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں غذائی بحران ریکارڈ سطح پر رہا، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کو غذائی قلت کا سامنا کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔

ہشت صبح کے مطابق مختلف ممالک سے ملک بدر کیے گئے افغان مہاجرین کی واپسی سے غربت اور غذائی بحران میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ طالبان رجیم کی ظالمانہ پالیسیوں کے باعث عالمی امداد کی معطلی نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید 30 لاکھ افغان شدید بھوک اور قحط کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

جریدے کے مطابق طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں، انتہاپسندانہ اقدامات اور دہشتگرد عناصر کی پشت پناہی نے افغانستان کو معاشی کھنڈر میں تبدیل کر دیا ہے، جہاں عوام بھوک اور بے بسی کی زندہ تصویر بن چکے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وقت کا تقاضا ہے کہ قابض افغان رجیم دہشتگردوں کی سرپرستی ترک کر کے عوام کی فلاح و بہبود، روزگار اور غذائی تحفظ کو اپنی ترجیح بنائے، بصورت دیگر افغانستان میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: افغانستان میں طالبان رجیم کے مطابق

پڑھیں:

مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ

نیویارک:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال