بھارتی ریاست میں عیسائی پادری پر ہولناک تشدد، انتہا پسندی نے نئی حد پار کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بھارت میں ہندوتوا نظریے سے وابستہ انتہا پسند گروہوں کے ہاتھوں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے واقعات ایک بار پھر سامنے آ گئے ہیں۔
بھارتی ریاست اوڈیشہ میں ایک عیسائی پادری پر مبینہ طور پر انتہا پسند ہندو تنظیم کے کارکنوں نے تشدد کیا، جس پر انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔
بھارتی اخبار دی نیو انڈین ایکسپریس کے مطابق اوڈیشہ میں بجرنگ دل سے وابستہ افراد نے ایک عیسائی پادری کے گھر پر دھاوا بولا، جہاں وہ اپنے اہلِ خانہ اور دیگر افراد کے ساتھ دعائیہ اجتماع میں شریک تھے۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے پادری کو تشدد کا نشانہ بنایا، لاٹھیوں سے مارا پیٹا اور زبردستی مذہبی نعرے لگوائے۔
مزید پڑھیںمودی سرکار کے اصل عزائم بے نقاب، ہندوتوا کے نام پر بھارت میں مسلمانوں پر منظم تشدد
اخبار کے مطابق حملہ آوروں نے پادری کے چہرے پر سندور مل دیا، انہیں جوتوں کا ہار پہنایا اور گاؤں میں گھمایا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ واقعے کے دوران مدد کی درخواست کے باوجود پولیس کی جانب سے بروقت کارروائی نہیں کی گئی۔
واقعے پر ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات سماجی انتشار میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسے واقعات نہ صرف مذہبی آزادی پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ قانون کی عملداری پر بھی سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی بھی ماضی میں بھارت میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات پر زور دے چکی ہے، تاہم ان سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔