بابر اعظم کا بگ بیش لیگ میں سفر ختم ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پاکستان کرکٹ ٹیم کے اسٹار بیٹر بابر اعظم کا بگ بیش لیگ میں سفر ختم ہو گیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں بگ بیش لیگ کی ٹیم سڈنی سکسرز نے بابر اعظم کے باقی میچز کے لیے عدم دستیابی کا اعلان کر دیا۔
اس حوالے سے سڈنی سکسرز کا کہنا ہے کہ بابر اعظم کو فوری طور پر پاکستان ٹیم کے کیمپ کے لیے طلب کیا گیا ہے، ان کو اگلی اسائنمنٹس کے لیے لگائے جانے والے کیمپ کے لیے واپس بلایا گیا ہے۔
Thank you, Babar ????
Babar Azam has been recalled to join Pakistan’s national camp ahead of upcoming international fixtures.
He will be unavailable for the remainder of the BBL|15 Finals Series.
More info at https://t.co/XFOTpJiF9I ???? pic.twitter.com/EOaLKZlLG0
— Sydney Sixers (@SixersBBL) January 22, 2026
سڈنی سکسرز نے کہا کہ بابر اعظم اب بی بی ایل کے بقیہ فائنلز سیریز کے میچز کے لیے دستیاب نہیں ہوں گے۔
سڈنی سکسرز نے بی بی ایل میں شرکت پر بابر اعظم کا شکریہ بھی ادا کیا۔
واضح رہے کہ سڈنی سکسرز کا کل چیلنجر فائنل ہوبارٹ ہیوریکینز کے ساتھ شیڈول ہے، چیلنجر جیتنے والی ٹیم بی بی ایل کے فائنل میں اتوار کو پرتھ اسکارچرز سے مقابلہ کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
اسلام آباد، وزیراعظم شہباز شریف(shahbaz shrif) نے ملکی معیشت کی پائیدارترقی کیلئے صنعت وپیداوار کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ کہا برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات حکومت پالیسی ترجیحات کا حصہ ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد میں ملکی معیشت پر اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اوربہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح پر مرکوز ہونا چاہیے۔
وزیراعظم نے کہا توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:مئی ، 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 297,239 ہو گئی، ایس ای سی پی
وزیراعظم نے مختلف شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی کی شمولیت کے لئے تمام وزارتوں اور ماہرین کو بامعنی مشاورت یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔