Islam Times:
2026-07-24@01:05:13 GMT

ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ

ایرانی شہروں کی حقیقی صورتحال اور عوام کے اصل جذبات مغربی میڈیا کے اس بیانیے سے بالکل مختلف ہیں جسے زبردستی پھیلایا جا رہا ہے۔ جنوری کے آغاز میں ایرانی عوام نے جن ہولناک حالات کا سامنا کیا، وہ ان من گھڑت رپورٹوں سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے جو گردش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں، میڈیا غلامانہ طور پر اسرائیلی اور مغربی سیاست دانوں کے ان نکات کو دہرا رہا ہے جو اچانک ایرانی "حقوق" کے علمبردار بن گئے ہیں۔ ترتیب و تنظیم: ایل اے انجم

ایران میں ہونے والے حالیہ ہنگاموں کے بادل تقریباً چھٹ چکے ہیں تاہم اس دوران اسلامی جمہوریہ ایران کیخلاف مغربی میڈیا کے متواتر پھیلائے گئے جھوٹ اور گمراہ کن بیانیے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ایرانی ہنگاموں کے حوالے سے مغربی میڈیا کی جانبدارانہ رپورٹنگ کا پوسٹ مارٹم امریکہ میں قائم معروف تحقیقاتی ویب سائٹ "دی گرے زون" نے چند روز پہلے ہی کر دیا تھا جس میں تفصیل سے بتایا گیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی فنڈنگ سے چلنے والی این جی اوز کا ایرانی فسادات کو بھڑکانے میں کتنا کردار ہے۔ (اس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ اسلام ٹائمز پر شائع ہو چکی ہے) ایران کی حالیہ صورتحال پر مغربی سیاستدانوں اور میڈیا کے کردار پر روسی نشریاتی ادارے "رشیا ٹوڈے" میں چھپنے والے مضمون میں ایک دلچسپ تبضرہ قابل غور ہے۔ مضمون نگار لکھتے ہیں؛

"حالیہ ایرانی احتجاجی لہروں کے دوران مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی زبان ایک جانی پہچانی سکرپٹ پر مبنی ہے، "آزادی، جمہوریت اور مظاہرین کی حمایت" وہ چیزیں ہیں جنہیں یورپ اور امریکہ اپنی ترجیحات کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ واشنگٹن اور لندن خود کو اخلاقی علمبردار بنا کر پیش کرتے ہیں، جو ایک جابر ریاست کے خلاف مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ یہ زبان شاذ و نادر ہی انسانی حقوق کے لیے حقیقی فکر میں تبدیل ہوئی ہے۔ اس کے بجائے، اس زبان نے ہمیشہ ایک کہیں زیادہ ٹھوس اور دیرینہ مقصد کو چھپانے کا کام کیا ہے، ایران کے وسائل، بالخصوص اس کے تیل پر قبضہ، اور اس کی سیاسی سمت پر اثر و رسوخ حاصل کرنا۔"

"یہ خیال کہ امریکہ یا یورپ عام لوگوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لیے ایرانی احتجاج کی حمایت کرتے ہیں، اس وقت دم توڑ دیتا ہے جب کوئی ان کا تاریخی ریکارڈ دیکھتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جدید امریکی مداخلت کے آغاز سے ہی، ایران کے ساتھ ایک ایسے معاشرے کے طور پر نہیں جس کی اپنی سیاسی امنگیں ہوں، بلکہ ایک "تزویراتی اثاثے" (Strategic Asset) کے طور پر سلوک کیا گیا ہے۔ اس کا جغرافیہ، اس کے توانائی کے ذخائر اور حریف طاقتوں کے درمیان اس کا محلِ وقوع اسے ایک ایسا پرکشش اثاثہ بناتا تھا جس پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری سمجھا گیا۔ جب تک ایرانی سیاست مغربی معاشی مفادات کے مطابق رہی، تو حکومت کو برداشت کیا گیا۔ جب ایسا نہ ہوا، تو "حکومت کی تبدیلی" (Regime Change) کو ضروری قرار دے دیا گیا۔"

دریں اثناء تسنیم نے ایک رپورٹ میں ایرانی ہنگاموں کے بارے میں مغربی میڈیا کے 10 بڑے جھوٹ کا پردہ فاش کیا ہے۔ یہ جھوٹ مسلسل مغربی میڈیا میں پھیلایا جاتا رہا۔ جون 2025ء میں امریکہ اور صیہونی ریاست کی جانب سے براہِ راست حملوں کے بعد، جنوری کا مہینہ ایران کے لیے سب سے زیادہ ہنگامہ خیز رہا ہے۔ کاروباری حضرات کی جانب سے معاشی اصلاحات کے مطالبے کے لیے شروع ہونے والے پرامن احتجاج، جن کی بنیادی وجہ برسوں سے جاری مفلوج کن مغربی پابندیاں ہیں، دیکھتے ہی دیکھتے منظم " دہشت گردی" میں بدل گئے۔ ایرانی شہروں کی حقیقی صورتحال اور عوام کے اصل جذبات مغربی میڈیا کے اس بیانیے سے بالکل مختلف ہیں جسے زبردستی پھیلایا جا رہا ہے۔ جنوری کے آغاز میں ایرانی عوام نے جن ہولناک حالات کا سامنا کیا، وہ ان من گھڑت رپورٹوں سے بالکل مطابقت نہیں رکھتے جو گردش کر رہی ہیں۔ اس تناظر میں، میڈیا غلامانہ طور پر اسرائیلی اور مغربی سیاست دانوں کے ان نکات کو دہرا رہا ہے جو اچانک ایرانی "حقوق" کے علمبردار بن گئے ہیں۔

 وہ ان پابندیوں کے خاتمے کا ذکر تک نہیں کرتے جنہوں نے ایرانیوں کا ذریعہ معاش تباہ کر دیا ہے۔ انسانی حقوق کے لیے یہ اچانک اور جھوٹی ہمدردی اس وقت مزید واضح ہو جاتی ہے جب ہم اسے غزہ میں جاری نسل کشی میں مغرب کی شمولیت کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں، جہاں اسرائیل نے گزشتہ دو سالوں میں کم از کم 71,000 افراد کو منظم طریقے سے قتل کیا ہے۔ پورا علاقہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور بچ جانے والی آبادی کو نام نہاد جنگ بندی کے دوران بھی روزانہ بھوک اور بمباری کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس کے برعکس، مغرب نے ان مظالم کی نہ صرف وکالت کی بلکہ ان میں بھرپور مدد بھی فراہم کی۔ ذیل میں ان 10 بڑے جھوٹوں کا ذکر ہے جو مغربی سیاست دانوں اور میڈیا کی جانب سے حالیہ ہنگاموں کے بارے میں مسلسل بولے جا رہے ہیں:

1۔ صرف پرامن احتجاج ہوئے
مغربی میڈیا اور سیاسی شخصیات نے ایران کی صورتحال کو غلط رنگ دیتے ہوئے اسے سیکورٹی فورسز کی جانب سے نہتے اور پرامن مظاہرین پر محض کریک ڈاؤن قرار دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ دسمبر کے آخر میں پرامن احتجاج شروع ہوئے تھے جب تاجروں نے ریال کی قدر میں کمی کے خلاف دکانیں بند کیں، لیکن 8 اور 9 جنوری کو یہ صورتحال اس وقت ہولناک رخ اختیار کر گئی جب جلاوطن شہزادے نے حکومت گرانے کی کال دی۔ اس کے بعد پرامن مظاہرین پیچھے ہٹ گئے اور ایک مسلح اور انتہا پسند گروہ نے جگہ لے لی جس نے سیکورٹی اہلکاروں اور شہریوں کو بے دردی سے نشانہ بنایا۔

2۔ ہنگاموں میں اسرائیل اور امریکہ کا ہاتھ نہیں تھا
سب سے پہلے اسرائیل اور امریکہ کے ملوث ہونے کا انکشاف ایرانی حکام نے نہیں بلکہ خود امریکی اور اسرائیلی ذرائع نے کیا۔ موساد کے فارسی سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور یروشلم پوسٹ نے اعتراف کیا کہ ان کے ایجنٹ زمین پر موجود تھے۔ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر مائیک پومپیو اور صدر ٹرمپ نے بھی کھلے عام ان مظاہروں کی حوصلہ افزائی کی اور مدد کا وعدہ کیا۔

3۔ حکام نے انٹرنیٹ مکمل بند کر دیا
8 جنوری کے بعد تشدد روکنے کے لیے مغربی ایپس اور میسنجر پلیٹ فارمز پر پابندیاں لگائی گئیں تاکہ شرپسندوں کا رابطہ ان کے غیر ملکی آقاؤں (مغربی یورپ اور اسرائیل) سے منقطع کیا جا سکے۔ یہ قدم قومی سلامتی کے لیے ضروری تھا اور اسے اب بتدریج بحال کیا جا رہا ہے۔

4۔ ایران میں 12,000 یا 16,500 مظاہرین مارے گئے
وہی میڈیا جو غزہ میں 71,000 شہداء کی فہرستوں کے باوجود شک کا اظہار کرتا ہے، ایران کے معاملے میں بغیر کسی ثبوت یا شناخت کے ہزاروں ہلاکتوں کے اعداد و شمار پیش کر رہا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق اصل تعداد ان مبالغہ آمیز نمبروں سے کہیں کم ہے اور اموات میں بڑی تعداد سیکورٹی فورسز کی ہے جو شرپسندوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

5۔ ایرانی افواج نے مظاہرین کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کیے
یہ وہی پرانا مغربی بیانیہ ہے جو عراق، شام اور لیبیا پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔ 2022ء میں بھی اسکول کی طالبات کے حوالے سے ایسا ہی دعویٰ کیا گیا تھا جس کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اور اب بھی "خودکار ہتھیاروں" اور کیمیائی مادوں کے استعمال کے دعوے سراسر بے بنیاد ہیں۔

6۔ لاشوں کی وصولی کے لیے خاندانوں کو ایک ارب تومان ادا کرنے پڑے
یہ ایک اور من گھڑت کہانی ہے جو ماضی میں بھی دہرائی گئی۔ کسی ایک خاندان نے بھی سامنے آ کر یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ ہی اس رقم کی ادائیگی کی کوئی رسید یا ثبوت موجود ہے۔ اتنی بڑی رقم نقد میں منتقل کرنا ناممکن ہے، لیکن میڈیا نے اسے بغیر تحقیق کے پھیلایا۔

7۔ ایرانی سپریم لیڈر ماسکو فرار ہونے کی تیاری کر رہے تھے؛ پھر انہیں ایئرپورٹ پر گولی مار دی گئی
برطانوی حکام کے اس جھوٹ کے باوجود کہ آیت اللہ خامنہ ای ماسکو فرار ہو رہے تھے، وہ اس کے بعد کم از کم تین بار عوامی سطح پر نظر آئے۔ 86 سالہ لیڈر ہفتے کے روز ہزاروں لوگوں سے ملے اور ان پر گولی لگنے کا کوئی نشان تک نہیں تھا۔ ایسے بیانیے کا مقصد صرف ایرانی سیکیورٹی فورسز کے حوصلے پست کرنا ہے۔

8۔ دیگر اعلیٰ حکام بھی ایران چھوڑ کر جا رہے ہیں
وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپیکر پارلیمنٹ قالیباف کے فرار ہونے کی خبریں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ یہ دعوے کہ ایرانی حکام وینزویلا یا روس منتقل ہو رہے ہیں، محض ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ ہیں جبکہ تمام حکام تہران میں اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

9۔ ایرانی حکام ڈالر اور سونا دوسرے ممالک منتقل کر رہے ہیں
مغربی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ایئرپورٹس پر حکام کے سوٹ کیسوں میں ڈالر اور سونا دیکھا گیا، لیکن اس کی کوئی ایک ویڈیو یا تصویر بھی سامنے نہیں آئی۔ 2026ء کے دور میں دولت کی منتقلی کے لیے کرپٹو کرنسی جیسے آسان طریقے موجود ہیں، اس لیے سوٹ کیسوں والی کہانی محض فلمی منظر کشی معلوم ہوتی ہے۔

10۔ اسلامی جمہوریہ نے مظاہرین کو دبانے کے لیے غیر ایرانی فورسز کا استعمال کیا
دعویٰ کیا گیا کہ عراقی مزاحمتی گروہ ایران میں مداخلت کر رہے ہیں۔ یہ جھوٹ 2022ء میں بھی بولا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایرانی عوام اور خطے کی مزاحمتی قوتوں کے درمیان دہائیوں پرانے یکجہتی کے تعلق کو توڑنا ہے۔ عراقی حکام نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے ثبوت کا مطالبہ کیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مغربی سیاست دانوں مغربی میڈیا کے ایرانی حکام ہنگاموں کے کی جانب سے جا رہا ہے کرتے ہیں سے بالکل ایران کے رہے ہیں کیا گیا کے ساتھ کے لیے کے بعد کیا ہے اور اس

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی