چین اور پاکستان کے درمیان اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے معاہدے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پاکستان اور چین کے درمیان سرمایہ کاری کے شعبے میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت چین پاکستان میں آئندہ عرصے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔
وفاقی وزیر سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نےایک نجی میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ چین جلد ہی پاکستان میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں پاکستان پر جمی ہوئی ہیں اور آنے والے برسوں میں غیرملکی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان ڈیڑھ ارب ڈالر کے نئے جوائنٹ وینچر معاہدے طے پا چکے ہیں، جبکہ زراعت، آٹوموٹیو اور معدنیات کے شعبوں میں تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے نئے مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر بھی دستخط ہو چکے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق حکومتِ پاکستان کی جانب سے 300 کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک بڑا تجارتی وفد چین کا دورہ کر چکا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریکوڈک منصوبے کے لیے چاغی کو کراچی سے منسلک کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت چاغی سے کراچی تک خصوصی ریلوے ٹریک اور نئی شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔ اس معاشی راہداری کے لیے تقریباً 70 لاکھ ڈالر عالمی مالیاتی اداروں سے حاصل کیے جائیں گے۔
قیصر احمد شیخ کا کہنا تھا کہ بنیان المرصوص کی کامیابی کے بعد پاکستان کے لڑاکا طیاروں کی عالمی سطح پر مانگ میں اضافہ ہوا ہے اور متعدد ممالک سے ان کی تیاری کے آرڈرز متوقع ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ مستقبل میں پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ زراعت اور مائننگ سیکٹرز میں آئے گا، جو ملکی معیشت کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی سرمایہ کاری
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔