سانحہ گل پلازا دردناک ہے، ہر آنکھ اشکبار ہے، ریسکیو آپریشن جاری ہے، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ سانحے میں 86 افراد لاپتہ تھے دو کا پتہ چل گیا تھا وہ اسپتال میں تھے، باقی لوگوں کی تلاش کا عمل جاری ہے، وزیراعلیٰ نے متعلقہ لوگوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی حکومت اکیلا نہیں چھوڑے گی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا ہے کہ گل پلازا میں ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازا کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ کسی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوسکتی، اس سانحے کے بعد ون پوائنٹ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، لاشوں کو ملبے سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جائے گا، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے، ڈی این اے کے ذریعے لاشوں کی شناخت کی جارہی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ سانحے میں 86 افراد لاپتہ تھے دو کا پتہ چل گیا تھا وہ اسپتال میں تھے، باقی لوگوں کی تلاش کا عمل جاری ہے، وزیراعلیٰ نے متعلقہ لوگوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی حکومت اکیلا نہیں چھوڑے گی۔
انہوں نے کہا کہ ہر لواحقین کی فیملی کو ایک ایک کروڑ روپے دیئے جائیں گے، آگ بجھانے کے دوران ایک فائر فائٹر شہید ہوا، حکومت فائر فائٹر کی فیملی کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ کی جب تک تحقیقاتی رپورٹ نہیں آتی کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، اب تحقیقات ہو رہی ہیں معلوم ہو جائے گا گل پلازا کو نوٹس ملا تھا یا نہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ تحقیقات ہو رہی ہیں تمام حقیقت سامنے آجائے گی، کہیں کوئی کوتاہی ہے تو حکومت ایکشن لے گی، تاجروں کی ایسوسی ایشن کو ایس او پیز پر عمل درآمد کا پابند کیا جائے گا۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ پورے پاکستان میں 90 فیصد عمارتیں ایسی ہوں گی جو پرانی ہیں، جن میں ایمرجنسی ایگزٹ نہیں ہوگا، نئی بننے والی عمارتوں میں ایس او پیز پر عمل کروایا جارہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا نے کہا کہ گل پلازا جاری ہے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم