گھروں اور فلیٹس میں فائر سیفٹی سسٹم لازمی قرار دینے کیلئے قانون سازی ہو گی:شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک :سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ آتشزدگی سے تحفظ کے لیے گھروں اور فلیٹس میں بھی فائر سسٹم ہونا چاہیے۔
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے گُل پلازہ سانحے کے تناظر میں کہا ہے کہ گھروں اور فلیٹوں میں بھی فائر سیفٹی سسٹم ہونا چاہیے۔ حکومت اس حوالے سے قانون سازی کرے گی۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ کراچی میں جتنی نئی بلڈنگز بن رہی ہیں، اس میں سیفٹی کا سسٹم موجود ہیں، تمام گیس اسٹیشنز میں سیفٹی کا سسٹم موجود ہوتا ہے، کراچی میں جتنی نئی بلڈنگز بن رہی ہیں، ان میں سیفٹی کا سسٹم موجود ہے، نیا گھر یا دکان بنائی جائے تو اس میں بھی سیفٹی کا سسٹم موجود ہونا لازمی ہونا چاہیے۔
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ ہر ایک کیلئے افسوسناک ہے،اس سانحے میں بہت قیمتی جانیں ضائع ہوئیں تاہم ہر چیز کا ملبہ وزیراعلیٰ سندھ پر نہیں ڈالاجا سکتا,گُل پلازہ میں آگ لگنے کی انکوائری ہو رہی ہے، فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کا انتظار ہے، انکوائری کے بعد چیزیں سامنے آئیں گی اور جس کی کوتاہی ہو گی اس کے خلاف ایکشن ہوگا۔
صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ پہلے بھی مارکیٹ میں آگ لگی تھی تو تاجروں کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، اب بھی اکیلا نہیں چھوڑیں گے، نقصان کیلیے میکنزم بنایا ہے, کراچی میں دو سال کےعرصے میں جہاں آگ لگی وہ اسی کے ایم سی نے بجھائی، اگر وفاقی حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے پاس کوئی خاص ٹیکنالوجی تھی تو وہ خود آفر کر سکتے تھے، ہم نے کسی کو منع نہیں کیا تھا، تاہم ہر ادارے کو بہتری کی ضرورت ہوتی ہے۔
بنگلہ دیش ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں ؟
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔