پاکستان کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کی عدم شرکت کی صورت میں پاکستان کی جانب سے بھی ایونٹ کے بائیکاٹ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلنے سے انکار کرتا ہے تو پاکستان بھی یکجہتی کے طور پر بائیکاٹ کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ پاکستان کی جانب سے پہلے ہی بنگلہ دیش کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی جا چکی ہے۔
اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش آج اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرے گا۔ بنگلہ دیش ٹیم کے کئی سینئر کھلاڑی ورلڈ کپ میں شرکت کے حق میں ہیں، جبکہ حکومت آج کھلاڑیوں کو اعتماد میں لے کر حتمی مؤقف اختیار کرے گی۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی سی سی نے باضابطہ طور پر بنگلہ دیش کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر بنگلہ دیش ورلڈ کپ کھیلنا چاہتا ہے تو اسے اپنے تمام میچز میزبان ملک بھارت میں ہی کھیلنا ہوں گے۔
ادھر کرکٹ سے متعلق ایک ویب سائٹ کے مطابق، اگر بنگلہ دیش بھارت جانے سے انکار کرتا ہے تو آئی سی سی ایونٹ میں کسی متبادل ٹیم کو شامل کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔