چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے قاضی القضاۃ فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش سے ٹیلیفونک گفتگو کی جس میں غزہ کی موجودہ صورتحال، امن، تعمیرِ نو اور بحالی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان علما کونسل کا اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق کانفرنس کی تائید کا اعلان

اس موقعے پر قاضی القضاۃ فلسطین ڈاکٹر محمود الہباش نے کہا کہ غزہ امن بورڈ کی اہل فلسطین مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ غزہ کی تعمیر نو اور بحالی کے تمام امور فلسطینی اتھارٹی کے تعاون سے انجام دیے جائیں گے جبکہ تعمیرِ نو کے لیے قائم انچارج بھی فلسطینی اتھارٹی کے تحت کام کریں گے۔

قاضی القضاۃ فلسطین کے مطابق غزہ امن بورڈ اور دیگر تمام بحالی کے منصوبے 2 سال کے عرصے میں مکمل کیے جائیں گے اور یہ تمام معاملات جنگ سے امن کی طرف پیشرفت کے لیے طے پائے ہیں۔

مزید پڑھیے: حافظ محمد طاہر اشرفی اسلامی و خلیجی ممالک اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر مقرر

چیئرمین پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے غزہ امن بورڈ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان علما کونسل ہر اس عمل کو مسترد کرے گی جسے اہل فلسطین مسترد کریں گے۔

پاکستان علماء كونسل پاكستان اور اسلامى ممالک كےغزه امن بورڈ ميں شموليت كى تائيد كرتى ہے نائب وزیراعظم اور پاکستان کی وزارت خارجہ یہ بات بتا چکی ہے کہ پاکستان کا اس امن مشن میں شامل ہونے کا واحد مقصد فلسطینیوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کیلئے جدوجہد کرنا ہے پاکستان نہ حماس اور نہ ہی… pic.

twitter.com/UXWefw1u0y

— WE News (@WENewsPk) January 21, 2026

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اور حکومت کی دلی خواہش ہے کہ اہل غزہ جلد از جلد اپنے گھروں میں دوبارہ آباد ہوں۔

مزید پڑھیں: غیر ملکی تنقید سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، پاکستان میں مضبوط مذہبی ہم آہنگی قائم ہے، مولانا طاہر اشرفی

حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا خواہاں ہے جس کا دارالحکومت القدس شریف ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی ڈاکٹر محمود الہباش

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان علما کونسل حافظ طاہر اشرفی ڈاکٹر محمود الہباش ڈاکٹر محمود الہباش پاکستان علما کونسل حافظ محمد طاہر کہ پاکستان طاہر اشرفی کے لیے

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار