موبی لنک کے انفارمیشن سیکیورٹی سسٹم نے ISO 27001کی عالمی سرٹیفکیشن حاصل کرلی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان کے صف اول کے ڈیجیٹل مائیکروفنانس بینک، موبی لنک بینک نے آئی ایس او کی جدید عالمی سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) حاصل کرلی ہے۔ یہ سرٹیفکیشن اسکے انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹمز (آئی ایس ایم ایس)کے لیے عالمی سطح پر تسلیم شدہ معیار ہے۔یہ سرٹیفکیشن اُن اداروں کو دی جاتی ہے جو ڈیٹا سیکیورٹی کے بین الاقوامی تقاضوں پر پورا اترتے ہوں۔ یہ کامیابی موبی لنک بینک کی انفارمیشن سیکیورٹی کی مضبوط گورننس، سائبر خطرات کو منظم انداز میں سنبھالنے کی صلاحیت، اور بہترین عالمی طریقوں کے تحت صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کو ظاہر کرتی ہے۔
عالمی سطح پر اس سرٹیفکیشن (ISO/IEC 27001:2022) کو انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم کے قیام، اسکے نفاذ اور اس میں مسلسل بہتری کے لیے ایک اعلیٰ معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ سرٹیفکیشن خطرات سے نمٹنے کا واضح فریم ورک فراہم کرتی ہے جو انفارمیشن کو محفوظ رکھنے میں مدد دیتی ہے، اور ڈیٹا کی رازداری، درستگی اور دستیابی کو یقینی بناتی ہے۔ موبی لنک بینک کی یہ کامیابی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اس کا ڈیجیٹل بینکنگ کا نظام مضبوط، خود مختار اور مصدقہ انفارمیشن کے تحفظ کے طریقہ کار پر قائم ہے۔
یہ اہم سنگِ میل موبی لنک بینک کے صارفین کو اولین ترجیح دینے کے وژن اور سروس میں جدت کے عزم سے ہم آہنگ ہے، جہاں عالمی معیار کو بنیادی آپریشنز کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ بینک اپنے پلیٹ فارمز کی سیکیورٹی اور اعتماد کو مسلسل بہتر بنا رہا ہے تاکہ صارفین کا بھرپور اعتماد قائم ہو اور ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات کے استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔
اس اہم پیش رفت پر اظہار خیال کرتے ہوئے موبی لنک بینک کے چیف انفارمیشن سیکیورٹی آفیسر، مصطفی لوٹیا نے کہا، ”یہ سرٹیفکیشن صارفین کی معلومات کے تحفظ، سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے، اور ہماری تمام سرگرمیوں میں بہترین عالمی طریقوں کی شمولیت کے عزم کو تقویت دیتی ہے۔ ہمارے صارفین اپنے ڈیٹا کے معاملے میں ہم پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، اور یہ سرٹیفکیشن اس اعتماد کے تحفظ سے متعلق ہماری ذمہ داری کو مزید مستحکم بناتی ہے۔ اس سرٹیفکیشن کی بدولت ہم پاکستان بھر میں محفوظ، جدید اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل بینکنگ کی خدمات مسلسل فراہم کرسکیں گے۔”
یہ سرٹیفکیشن موبی لنک بینک کے اس مقصد کو تقویت دیتی ہے کہ وہ مؤثر گورننس، رسک مینجمنٹ اور سیکیورٹی کنٹرولز کے ذریعے ایک مضبوط انفارمیشن سیکیورٹی مینجمنٹ سسٹم (آئی ایس ایم ایس) قائم کرے، اسے فعال رکھے اور اسے مسلسل بہتر بناتا رہے، تاکہ انفارمیشن کا تحفظ ہو اور محفوظ، پائیدار اور قابلِ اعتماد بینکنگ کی خدمات فراہم کی جا سکیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انفارمیشن سیکیورٹی کے تحفظ
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔