زراعت اور لائیو اسٹاک کی بہتری کیلئے پاکستان کا آسٹریلوی مہارت سے استفادے کا عزم WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز

اسلام آباد(آئی پی ایس )وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین کی زیرِ صدارت زرعی اور لائیو اسٹاک شعبوں میں تعاون کے فروغ کے لیے آسٹریلیا کے ہائی کمشنر برائے پاکستان جناب ٹموتھی کین کے ساتھ ایک اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر، لائیو اسٹاک کمشنر اور متعلقہ اداروں کے سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس کے دوران زرعی و لائیو اسٹاک پیداوار میں اضافے، مارکیٹ تک رسائی، بایو سیکیورٹی کے امور اور تکنیکی تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

وفاقی وزیر نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اور آسٹریلیا کے مابین 1948 سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں اور دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ)کے رکن ہونے کے باعث دونوں ممالک کے درمیان کئی مشترکہ اقدار اور مفادات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آسٹریلوی ہائی کمشنر کی موجودگی دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔وفاقی وزیر نے پاکستان کی معیشت میں زراعت کی مرکزی حیثیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کی تقریبا 65 فیصد آبادی براہِ راست یا بالواسطہ زراعت سے وابستہ ہے جبکہ 36 فیصد روزگار کا انحصار اسی شعبے پر ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کی زرعی معیشت کا تقریبا 60 فیصد حصہ لائیو اسٹاک پر مشتمل ہے، تاہم اس شعبے میں پیداوار اب بھی کم ہے۔ انہوں نے دو بڑے چیلنجز کی نشاندہی کی، جن میں فوٹ اینڈ ماتھ ڈیزیز سے پاک علاقوں کا قیام اور جانوروں کے وزن اور پیداوار میں اضافہ شامل ہے تاکہ کسانوں کی آمدنی میں بہتری لائی جا سکے۔انہوں نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ حکومتِ پاکستان نے FMD کے تدارک کے لیے دو سال کے لیے 7 اعشاریہ35 ارب روپے مختص کیے ہیں، فری کمپارٹمنٹس کے قیام کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس بیماری پر قابو پانے کے لیے روس اور چین سے ویکسین درآمد کی جا رہی ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں فی ایکڑ اوسط زرعی پیداوار 30 من ہے جبکہ بھارت میں یہ 45 من ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے غذائی تحفظ کے چیلنجز کے تناظر میں زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے آسٹریلیا کے تجربات سے استفادہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔باغبانی کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان آسٹریلیا کو آموں کی برآمدات میں اضافہ کرنا چاہتا ہے۔

اگرچہ آسٹریلیا نے پاکستان سے مزید آم درآمد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم بعض تکنیکی اور ریگولیٹری تقاضے اب بھی ایک چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تمام زیرِ التوا امور کو فوری طور پر حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق نے ردِعملی خط و کتابت کے بجائے فعال بین الاقوامی روابط کی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ اس مقصد کے لیے وفاقی وزیر کی سربراہی میں ایک خصوصی ورکنگ گروپ قائم کیا جائے گا جو تمام زیرِ التوا معاملات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔ دونوں ممالک فوکل پرسنز نامزد کریں گے اور سال میں دو سے تین مرتبہ باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔آسٹریلوی ہائی کمشنر مسٹر ٹموتھی کین نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے پاکستان کی زرخیز زمین اور زرعی صلاحیت کو سراہا۔ انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا فائیٹو سینیٹری اور دیگر ریگولیٹری نظام کو ڈیجیٹلائز کر رہا ہے اور پاکستانی حکام کو تکنیکی تبادلوں اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے برازیل میں اپنے سابقہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے برازیل کے فوڈ سیکیورٹی اور زرعی پیداوار کے ماڈل کو قابلِ تقلید قرار دیا۔وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ہارون اختر نے کہا کہ آسٹریلیا کم پانی کے استعمال سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے میں نمایاں تجربہ رکھتا ہے، جس سے پاکستان کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت شوگر سیکٹر سمیت مختلف شعبوں میں اصلاحات اور ڈی ریگولیشن کی جانب بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں لائیو اسٹاک کی بڑی تعداد کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی منڈیوں میں مسابقت کے لیے نئی نسلوں، سرٹیفائیڈ سلاٹر ہاسز اور ویلیو ایڈیشن ناگزیر ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک پاکستانی وفد آسٹریلیا کا دورہ کرے تاکہ وہاں کی جدید لائیو اسٹاک اور گوشت برآمدی سہولیات کا مشاہدہ کیا جا سکے، کیونکہ آسٹریلیا دنیا کے بڑے گوشت برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔لائیو اسٹاک کمشنر نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آسٹریلیا کے تعاون سے کئی منصوبے پہلے ہی پاکستان میں جاری ہیں، بالخصوص ڈیری ڈویلپمنٹ، بریڈ امپروومنٹ، چراگاہوں کے انتظام اور استعداد کار میں اضافے کے شعبوں میں۔ انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا کے ساتھ قریبی تعاون سے پاکستان میں لائیو اسٹاک کی پیداوار اور برآمدی صلاحیت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقین نے زرعی اور لائیو اسٹاک شعبوں میں تکنیکی تعاون، مارکیٹ تک بہتر رسائی، باقاعدہ روابط اور استعداد کار میں اضافے کے ذریعے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، تاکہ باہمی فائدہ اور علاقائی غذائی تحفظ کو فروغ دیا جا سکے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرحکومت کا وفاقی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ حکومت کا وفاقی پولیس کی استعداد کار بڑھانے کیلئے پاک فوج کی خدمات لینے کا فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف سمیت غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کے رہنماوں نے مسودے پر دستخط کردیئے پاکستانی ہائی کمشنر محمد سلیم کی کینڈین پارلیمانی رہنماوں سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ وفاقی وزیر حنیف عباسی سے قازقستان کے سفیر کی ملاقات ، ریلوے کنیکٹیوٹی پر تبادلہ خیال رومانیا کے سفیر ڈان سٹوئنزکو کی سپیریئر یونیورسٹی کے وفد سے ملاقات ،اکیڈمک تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال چین پاکستان اقتصادی راہداری کو اپ گریڈ کرنے کا وقت آ گیا TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: اور لائیو اسٹاک لائیو اسٹاک کی

پڑھیں:

وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور اٹلی کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات باہمی احترام، اعتماد اور تعاون پر مبنی ہیں۔منگل کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اٹلی پاکستان کا ایک اہم یورپی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئے ہیں۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم اور ثقافتی روابط کے فروغ کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اطالوی قومی دن دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے مزید فروغ کے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اٹلی میں مقیم پاکستانی برادری کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ برادری دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

وزیر ریلوے نے کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح کے روابط کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے ،دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں جو مشترکہ ترقی اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور اٹلی کے مضبوط تعلقات باہمی مفادات کے تحفظ اور بین الاقوامی تعاون کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ دیرینہ دوستی مستقبل میں مزید مضبوط اور نتیجہ خیز شراکت داری میں تبدیل ہوگی۔ انہوں نے اطالوی قومی دن پر پاکستان اور اٹلی کے عوام کے لیے امن، ترقی اور خوشحالی کی نیک تمناں کا اظہار کیا۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا نے پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال سے ملاقات، دینار ہسپتال ڈی آئی خان کیلئے ریڈیالوجی مشینری اور طبی آلات کی فراہمی پر تبادلہ خیال
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ