کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر شروع کیا گیا پیٹرول پمپ سیل
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی: ڈپٹی کمشنر ایسٹ(شرقی) نے این او سی کی منسوخی کے باوجود جامعہ کراچی کی اراضی پر چلنے والے پیٹرول پمپ کیخلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے سیل کردیا ہے ۔
یاد ریے کہ اس سے قبل ڈپٹی کمشنر ضلع ایسٹ نے ختم نبوت چوک کے قریب کنیز فاطمہ سوسائٹی سے متصل جامعہ کراچی کی اراضی پر قائم کیے گئے مذکورہ پیٹرول پمپ کی این او سی منگل کو منسوخ کردی تھی۔
تاہم اس کے باوجود بدھ سے پیٹرول پمپ کو فعال کرکے یہاں سے پیٹرول کی فروخت شروع کردی گئی تھی جس سے جامعہ کراچی کے اکیڈمک حلقے میں ایک تشویش پائی جاتی تھی۔
"ایکسپریس" کے رابطہ کرنے پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ جیسے ہی ان کے علم میں یہ بات آئی کہ این او سی کی منسوخی کے باوجود پیٹرول پمپ کو فعال کردیا گیا یے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو اس معاملے پر خط لکھ کر آگاہ کیا گیا۔
وائس چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ ایک روز قبل جامعہ کراچی کے دورے کے موقع پر ڈپٹی کمشنر نے یونیورسٹی اراضی کی موٹیشن کرانے اور لینڈ سروے کرانے کی تجویز دی تھی لہذا اس سلسلے میں بھی ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ محکموں کو جمعرات کی صبح ہی خطوط لکھ دیے گئے جبکہ بدھ کو منعقدہ سینڈیکیٹ کے اجلاس میں بھی اراکین کو اس ساری صورتحال سے آگاہ کردیا تھا۔
واضح رہے کہ محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز نے کراچی یونیورسٹی کی اراضی پر پیٹرول پمپ کھولنے کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ایسٹ کو خط لکھ کر کارروائی کی سفارش کی تھی اور اس خط کے ضمن میں ڈپٹی کمشنر کے دفتر سے متعلقہ پیٹرول پمپ کی این او سی منسوخ کردی گئی تھی۔
اس سے قبل جامعہ کراچی کی انتظامیہ نے پیٹرول پمپ کی تیزی سے جاری تعمیر اور
معاملہ ذرائع ابلاغ پر آنے پر محکمہ یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کو آگاہ کرتے ہوئے اس سے مدد طلب کی تھی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیٹرول پمپ کی جامعہ کراچی کی اراضی پر ڈپٹی کمشنر
پڑھیں:
پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت پر صوبے میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع اور نگرانی کے لیے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق تمام بیراجوں، دریاؤں اور ہیڈ ورکس کی سیف سٹی ڈرون سرویلنس کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ پانی کی سطح اور ممکنہ سیلابی ریلوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔
ڈرون مانیٹرنگ کے دوران جھنگ کے تریموں بیراج میں پانی کی سطح معمول کے مطابق ریکارڈ کی گئی جبکہ پاکپتن میں دریائے راوی اور ستلج میں سیلابی صورتحال، پانی کی آمد اور دریائی کناروں پر کٹاؤ کا جائزہ لیا گیا، جہاں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔
سرگودھا میں دریائے چناب پر واقع طالب والا پل، خانیوال میں ہیڈ سدھنائی بیراج اور ہیڈ ورکس، جبکہ منڈی بہاؤالدین میں رسول بیراج پر بھی ڈرون سرویلنس کے ذریعے پانی کے بہاؤ کی نگرانی کی گئی۔ حکام کے مطابق ساہیوال کے علاقے کتب شہانہ کے قریب نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا، جبکہ سیالکوٹ کے ہیڈ مرالہ پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 74 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔