پی ٹی آئی نے حکومت کا “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کا فیصلہ مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے حکومتِ پاکستان کے “بورڈ آف پیس” میں شمولیت کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نوعیت کے بین الاقوامی اہمیت کے حامل فیصلے مکمل شفافیت اور تمام بڑی سیاسی جماعتوں سے جامع مشاورت کے بغیر نہیں کیے جا سکتے۔
پی ٹی آئی کی جانب سے جاری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور وہ موجودہ پارلیمان کو جائز نہیں سمجھتی، کیونکہ 2024 کے انتخابات کے نتائج میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے ایک جعلی حکومت مسلط کی گئی۔ بیان کے مطابق جس جماعت کو اقتدار میں لایا گیا، وہ درحقیقت صرف 17 نشستیں جیت سکی تھی۔ اس کے باوجود، حکومت کو چاہیے تھا کہ ایسے اہم فیصلے کرنے سے قبل دستیاب پارلیمانی فورمز پر کھلے مباحثے کے ذریعے اس معاملے کو زیرِ غور لاتی۔
شوہر کو قتل کرنے کے جرم میں بیوی کو عمر قید اور ساتھی کو موت کی سزا سنادی گئی
پی ٹی آئی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی بھی بین الاقوامی امن اقدام میں پاکستان کی شمولیت اقوامِ متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کی تقویت کا باعث ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے متوازی ڈھانچوں کی تشکیل کا ذریعہ جو عالمی نظام کو کمزور یا پیچیدہ کریں۔ بیان میں کہا گیا کہ سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی ہمیشہ اس اصول پر قائم رہی ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی قومی خودمختاری کے تحفظ، آئینی اقدار کی پاسداری اور وسیع قومی و عوامی اتفاقِ رائے کی عکاس ہونی چاہیے۔
پالیسی بیان میں فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان تحریکِ انصاف، بطور جماعت اور ہر پاکستانی شہری بطور انسان، فلسطینی عوام کی مرضی کے خلاف کسی بھی منصوبے کو قبول نہیں کرے گی۔ پی ٹی آئی نے فلسطینی عوام پر جاری مظالم پر شدید رنج و غم اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک منصفانہ، جامع اور پائیدار حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس میں القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہو۔ بیان کے مطابق یہ وہی اصولی مؤقف ہے جسے سابق وزیرِ اعظم عمران خان مسلسل پیش کرتے رہے، جو انصاف، بین الاقوامی قانون اور فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
سعودی عرب میں منشیات سمگنلنگ کے جرم میں پاکستانی شہری کو سزائے موت دے دی گئی
پی ٹی آئی نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” میں کسی بھی باضابطہ شرکت کو اس وقت تک واپس لیا جائے جب تک مکمل مشاورتی عمل مکمل نہ ہو۔ اس عمل میں پارلیمانی نظام کے تحت مکمل جانچ پڑتال اور بحث و مباحثہ، تمام بڑی سیاسی قیادت سے جامع مشاورت بالخصوص سابق وزیرِ اعظم عمران خان سے مشاورت، اور عوامی اعتماد کے لیے ریفرنڈم کے ذریعے قوم سے رائے لینا شامل ہونا چاہیے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کو ایک ذمہ دار، اصول پسند اور امن دوست ریاست کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہنا چاہیے، جس کی عالمی سطح پر مصروفیات وقار اور قانونی حیثیت کی حامل ہوں، اقوامِ متحدہ کے منشور سے ہم آہنگ ہوں اور قومی اتفاقِ رائے کی بنیاد پر استوار ہوں۔
بحیرہ روم میں روسی تیل بردار جہاز پر فرانسیسی کارروائی، تحقیقات شروع
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: فلسطینی عوام پی ٹی آئی نے کہ پاکستان کہا گیا
پڑھیں:
فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا
فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔
سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔
امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔
فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام
فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔
کالا ہرن کیس کیا تھا؟سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔
اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔
اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔
یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول
سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن