23 ماہ میں پنجاب میں تقریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا، وزیراعلیٰ مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ پنجاب حکومت نے گزشتہ 23 ماہ کے دوران صوبے بھر میں 9 لاکھ 94 ہزار سے زائد افراد کو روزگار فراہم کیا ہے، جسے انہوں نے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا۔
اپنے ایکس (سابق ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر جاری بیان میں مریم نواز شریف نے بتایا کہ فروری 2024 سے اب تک مجموعی طور پر 9 لاکھ 94 ہزار 36 روزگار کے مواقع پیدا کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق 3 لاکھ 15 ہزار 536 نوکریاں سرکاری محکموں، ادارہ جاتی اصلاحات اور مختلف سروسز میں توسیع کے ذریعے فراہم کی گئیں۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ مریم نواز ہیلتھ کلینکس، اسکولز، ستھرا پنجاب اور دیگر عوامی منصوبوں کے تحت بڑی تعداد میں ملازمتیں دی گئیں۔ اس کے علاوہ آسان کاروبار پروگرام کے تحت ایس ایم ای فنانسنگ کے ذریعے 2 لاکھ 3 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع ملے۔
مریم نواز شریف کے مطابق 4 لاکھ 75 ہزار 500 براہِ راست اور بالواسطہ نوکریاں اپنی چھت اپنا گھر، سڑکوں کی تعمیر اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے نتیجے میں پیدا ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب غربت کے خاتمے، جامع معاشی ترقی اور پائیدار روزگار کی فراہمی کے اپنے عزم پر قائم ہے اور عوام کی بہتری کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مریم نواز
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔