وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اقدامات سے غربت میں کمی، شفافیت اور روزگار میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ کے اقدامات سے غربت میں کمی، شفافیت اور روزگار میں اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 22 January, 2026 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) وزارت تخفیف غربت و سماجی تحفظ نے مستحق خاندانوں کے لیے نقد امداد اور روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے نظام میں شفافیت کے فروغ کے لیے متعدد اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
وزارت کے مطابق، نیشنل پاورٹی گریجویشن پروگرام چاروں صوبوں کے 21 پسماندہ اضلاع میں کامیابی سے مکمل کیا گیا، جس کے تحت مستحق خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نقد معاونت کے ذریعے باعزت اور پائیدار ذریعۂ معاش کی طرف منتقل کیا گیا۔
پروگرام کے نتائج کے مطابق:
1 لاکھ 79 ہزار نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے
96 ہزار خاندان مستقل بنیادوں پر غربت سے نکل آئے
مزید برآں، مستحقین کو پیداواری اثاثے، بلاسود قرضے، ذریعۂ معاش کی تربیت اور مختلف ہنر فراہم کیے گئے۔
وزارت نے پاکستان میں غربت کے خاتمے کے اقدامات کو مزید وسعت دینے کے لیے 39 ارب روپے کا نیا منصوبہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔ یہ چار سالہ منصوبہ (2026–2029) ملک کے 25 اضلاع میں نافذ کیا جائے گا اور مکمل شفافیت و احتساب کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا، جس کی نگرانی آزادانہ جانچ، آڈٹس اور شکایات کے ازالے کے نظام کے ذریعے کی جائے گی، وفاقی وزیر برائے تخفیف غربت سید عمران احمد شاہ نے بتایا۔
مزید یہ کہ وزارت نے ادارہ شماریات پاکستان کے تعاون سے سماجی تحفظ کا ڈیجیٹل ڈیش بورڈ تیار کیا ہے، جو وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام اقدامات کی رپورٹنگ، شفافیت اور شواہد پر مبنی فیصلوں کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرے گا۔
وزارت کے ماتحت اداروں نے بھی اصلاحاتی اقدامات کیے، جن میں:
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی کوریج بڑھا کر ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچا دی گئی
40 لاکھ خاندان مالی بہتری کی بنیاد پر کفالت پروگرام سے نکل گئے
36 لاکھ نئے اہل خاندانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل کیا گیا
وزیر اعظم کے کیش لیس معیشت کے وژن کے تحت ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ادائیگیاں شروع کی گئی ہیں، جس سے شفافیت بڑھی، رقوم کے ضیاع میں کمی آئی اور ادائیگیاں بروقت ممکن ہوئیں۔
اسی طرح، پاکستان بیت المال نے بھی امداد کے نظام کو ڈیجیٹل بنایا اور یتیموں، خواتین، معذور افراد اور مزدوروں کے لیے مالی معاونت میں اضافہ کیا۔ بایومیٹرک ادائیگیوں کا نظام بھی متعارف کرایا جا رہا ہے تاکہ احتساب مزید مضبوط ہو۔
وزارت کے مطابق، اصلاحات کے نتیجے میں سماجی تحفظ کے نظام میں قابل تصدیق نتائج سامنے آئے اور عوام کا اعتماد مضبوط ہوا۔ مستحق افراد کو وقار، شفافیت اور احتساب کے ساتھ معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔
وزارت تخفیف غربت نے وعدہ کیا ہے کہ آئندہ بھی اقدامات کو مزید وسعت دی جائے گی تاکہ مستحق افراد تک جامع سہولتیں پہنچائی جا سکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: موسی گینگ کے پانچ ارکان گرفتار اسلام آباد پولیس کی بڑی کارروائی: موسی گینگ کے پانچ ارکان گرفتار صدر مملکت نے سندھ، لاہور اور پشاور ہائیکورٹس کے ایڈیشنل ججز کی توثیق اور مدت میں توسیع کی منظوری دے دی روانڈا کی ہائی کمشنر کی شیری رحمان سے ملاقات، خواتین قیادت پر زور آسٹریلیا اور فلپائن کا سفارتی تعاون مضبوط بنانے کا اعلان صدرِ مملکت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 23 جنوری کو طلب کر لیا جوہری پروگرام بحال ہوا تو کارروائی کریں گے، صدر ٹرمپ کی ایران کو ایک بار پھر سخت وارننگCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: وزارت تخفیف غربت شفافیت اور
پڑھیں:
ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔