Jang News:
2026-07-24@02:02:03 GMT

کوئٹہ: ہنہ اور اوڑک میں برفباری، رش کے باعث ٹریفک جام

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

کوئٹہ: ہنہ اور اوڑک میں برفباری، رش کے باعث ٹریفک جام

چمن شہر میں 35 سال بعد ہونے والی شدید برف باری سے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ فوٹو :اے ایف پی

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں برفباری کے باعث ہنہ اوڑک روڈ پر رش میں متعدد گاڑیاں پھنس گئیں۔

شہری کا کہنا ہے کہ ہنہ میں کئی فیملیز ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں، شدید سردی میں گھنٹوں سےٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں شاہراہوں پر کہیں بھی ٹریفک معطل نہیں، میں اس وقت کوئٹہ سے زیارت کی طرف جارہا ہوں۔

ایس ایچ او محمود خروٹی نے کہا کہ ہنہ روڈ پر اس وقت ٹریفک معمول پر رواں دواں ہے، ہنہ اوڑک روڈ پر شام کے وقت گاڑیوں کا رش زیادہ ہوگیا تھا۔

دوسری جانب شمال مشرقی اور مغربی بلوچستان برفباری سے موسم شدید سرد ہوگیا، 35 سال بعد چمن بھر میں شدید برف باری ہوئی۔

35 سال بعد چمن بھر میں شدید برف باری، بلوچستان میں موسم سرد ہوگیا

مختلف اضلاع میں برف باری کے باعث شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

مختلف اضلاع میں برف باری کے باعث شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔

بلوچستان کے شمالی علاقوں میں شدید برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، چمن شہر میں 35 سال بعد ہونے والی شدید برف باری سے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے باعث سال بعد

پڑھیں:

مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی

مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار