کوئٹہ: ہنہ اور اوڑک میں برفباری، رش کے باعث ٹریفک جام
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
چمن شہر میں 35 سال بعد ہونے والی شدید برف باری سے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ فوٹو :اے ایف پی
بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں برفباری کے باعث ہنہ اوڑک روڈ پر رش میں متعدد گاڑیاں پھنس گئیں۔
شہری کا کہنا ہے کہ ہنہ میں کئی فیملیز ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں، شدید سردی میں گھنٹوں سےٹریفک میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں شاہراہوں پر کہیں بھی ٹریفک معطل نہیں، میں اس وقت کوئٹہ سے زیارت کی طرف جارہا ہوں۔
ایس ایچ او محمود خروٹی نے کہا کہ ہنہ روڈ پر اس وقت ٹریفک معمول پر رواں دواں ہے، ہنہ اوڑک روڈ پر شام کے وقت گاڑیوں کا رش زیادہ ہوگیا تھا۔
دوسری جانب شمال مشرقی اور مغربی بلوچستان برفباری سے موسم شدید سرد ہوگیا، 35 سال بعد چمن بھر میں شدید برف باری ہوئی۔
مختلف اضلاع میں برف باری کے باعث شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
مختلف اضلاع میں برف باری کے باعث شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہے، سندھ اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ہلکی اور تیز بارش کا سلسلہ جاری ہے۔
بلوچستان کے شمالی علاقوں میں شدید برف باری سے نظامِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے، چمن شہر میں 35 سال بعد ہونے والی شدید برف باری سے شہری گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔