مسافروں کو انصاف مل گیا: بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن پر تاریخ کا ریکارڈ جرمانہ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بھارت کی سب سے بڑی ایئرلائن کو سنگین انتظامی اور آپریشنل غفلت کے باعث تاریخ کے ایک بڑے جرمانے کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے، جسے مسافروں کے لیے انصاف کی ایک اہم مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارتی فضائی ریگولیٹری اتھارٹی ڈی جی سی اے (DGCA) نے ایئرلائن پر 24 لاکھ 50 ہزار ڈالر کا بھاری جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ جرمانہ نہ صرف اپنی نوعیت میں غیر معمولی ہے بلکہ بھارتی ہوا بازی کی تاریخ کے بڑے مالی جرمانوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی سی اے نے کارروائی کو مزید سخت کرتے ہوئے ایئرلائن کے ہیڈ آف آپریشنز کنٹرول کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا حکم بھی جاری کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایئرلائن کی اعلیٰ انتظامیہ کو سخت وارننگ دی گئی ہے کہ وہ اپنے آپریشنل نظام میں فوری اور مؤثر بہتری لائے۔
ریگولیٹر کے مطابق یہ جرمانہ ایئرلائن کی ناقص منصوبہ بندی، خاص طور پر پائلٹس کے روسٹر، عملے کی دستیابی اور مجموعی آپریشنل مینجمنٹ میں سنگین کوتاہیوں پر عائد کیا گیا ہے۔ انہی خامیوں کے باعث حالیہ دنوں میں ہزاروں پروازیں منسوخ ہوئیں، جس کے نتیجے میں دسیوں ہزار مسافر مختلف شہروں میں پھنس کر شدید مشکلات کا شکار ہوئے۔
دوسری جانب ایئرلائن انتظامیہ نے ڈی جی سی اے کے فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے احکامات پر فوری عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ روسٹر پلاننگ، عملے کے نظم و نسق اور آپریشنل ڈھانچے کو بہتر بنایا جائے گا تاکہ آئندہ مسافروں کو اس قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ اقدام بھارتی ہوا بازی کے شعبے میں مسافروں کے حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مضبوط قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔