سانحہ گل پلازہ نے فائر فائٹنگ سسٹم کا کھوکھلاپن بے نقاب کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) سانحہ گل پلازہ نے جہاں درجنوں خاندانوں کو اجاڑ دیا، وہی شہر قائد کے فائر فائٹنگ سسٹم کے کھوکھلے پن کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔ سابق اور موجودہ چیف فائر آفیسرز نے شہر میں فائر سیفٹی کے حوالے سے جو حقائق بیان کیے ہیں، وہ نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔سابق چیف فائر آفیسر کے مطابق کراچی کا پہلا فائر اسٹیشن 1914ء میں قائم کیا گیا تھا جبکہ قیامِ پاکستان کے بعد صرف ایک مزید اسٹیشن کا اضافہ
ہوا۔ اس وقت شہر کی آبادی ساڑھے 4 لاکھ تھی جو آج بڑھ کر تقریباً 3 کروڑ تک جا پہنچی ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کراچی کو اس وقت کم از کم 200 فائر اسٹیشنز کی ضرورت ہے، لیکن حقیقت میں صرف 12 مرکزی اسٹیشنز فعال ہیں، اگر سڑکوں اور پلوں کے نیچے قائم عارضی مراکز کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد محض 28 بنتی ہے۔ شہر کو اس وقت 15 سے 20 ہزار اہلکاروں کی ضرورت ہے، جبکہ صرف 930 فائر فائٹرز دستیاب ہیں۔ ایک فائر فائٹر اوسطاً ایک ہزار افراد کی حفاظت کی ذمے داری نبھا رہا ہے۔ حکام کے مطابق کراچی کو کم از کم 600 فائر ٹینڈرز کی ضرورت ہے لیکن دستیاب وسائل اس کا عشرِ عشیر بھی نہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فائر ا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔