Jasarat News:
2026-07-24@01:13:12 GMT

مسلم دنیا اور مغرب کی خباثت

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260123-03-5
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران میں ’’نئی قیادت‘‘ تلاش کی جائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے ملک کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔ خامنہ ای ایران کو جبر اور تشدد کے ذریعے کنٹرول کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ قیادت کا مطلب احترام ہے۔ خوف اور موت نہیں۔ (روزنامہ جسارت، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں قیادت کی تبدیلی کا اشارہ دے کر نہیں رہ گئے بلکہ وہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی سازش کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت اسرائیل کے لیے امریکا کے سابق سفیر ڈین شیپیرہ کا وہ بیان ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ آئندہ ہفتے خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔ سابق امریکی سفیر شیپیرہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا کے بحری بیڑے کی موجودگی ایران پر ممکنہ فضائی اور زمینی حملوں کے لیے آسانی پیدا کرے گی۔ (روزنامہ جنگ، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

بہت سے لوگ ایران میں حالیہ ہنگاموں کو ایران کا ’’داخلی معاملہ‘‘ سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان فسادات کی پشت پر امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے بلکہ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس کہہ رہے ہیں۔ امریکی پروفیسر کے مطابق ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کے ذمے دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔ پروفیسر جیفری کے مطابق خریدا ہوا امریکی میڈیا یہ بات نہیں بتاتا کہ ایران کی معیشت کو تباہ کرنے والا امریکا ہے۔ ہمیشہ امریکی عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کررہی ہے۔ پروفیسر جیفری کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کے عوام کی زندگی کو اس لیے ابتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایران میں قیادت کی تبدیلی ممکن ہوسکے۔ (روزنامہ ایکسپریس، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

یہ حقیقت راز نہیں کہ مسلم دنیا کے حوالے سے صرف امریکا ہی نہیں پورا یورپ بھی ایک خبیث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکا اور یورپ کو مسلم دنیا میں کوئی ایسی قیادت درکار نہیں جو اسلام پر اصرار کرنے والی ہو۔ جو حقیقی معنوں میں جمہوری ہو اور جو حقیقی معنوں میں مسلم دنیا کو مغرب کے جبر سے آزاد کرانے کی سوچ رکھتی ہو۔ امریکا اور یورپ آزادی کے تصور کے سب سے بڑے پرستار بنتے ہیں لیکن انہیں مسلم دنیا کی سیاسی اور معاشی آزادی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چنانچہ امریکا اور یورپ نے پوری مسلم دنیا کو اپنے سیاسی اور معاشی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ امریکا اور یورپ نے کہیں مسلم دنیا میں بادشاہوں کو مسلط کیا ہوا ہے کہیں جرنیلوں کو اور کہیں کٹھ پتلی سیاست دانوں کو۔ 1990ء کی دہائی میں الجزائر میں انتخابات ہوئے تو اسلامی فرنٹ نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ امریکا اور یورپ خود کو آزادی اور جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں۔ چنانچہ انہیں اسلامی فرنٹ کی اس کامیابی کو دل سے قبول کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے الجزائر کی فوج کو اشارہ کیا اور الجزائر کی فوج اسلامی فرنٹ پر ٹوٹ پڑی۔ چنانچہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ الجزائر میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جو دس سال تک جاری رہی اور دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نگل گئی۔ حماس اگرچہ پہلے دن سے ایک جہادی تنظیم تھی لیکن حالات کے تحت حماس نے ایک زمانہ میں ’’سیاسی جماعت‘‘ کا کردار کرتے ہوئے مقبوضہ عرب علاقوں کے انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ امریکا اور یورپ کو چاہیے تھا کہ وہ جمہوریت کے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے حماس کی حکومت کو تسلیم کرتے۔ لیکن اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے حماس کی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ حالانکہ حماس کی حکومت کی کارکردگی شاندار تھی۔ اخوان المسلمون عرب دنیا کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور اس جماعت نے مصر کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اخوان کے رہنما مرسی مصر کے صدر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن امریکا اور یورپ نے صدر مرسی کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے مصر کی فوج کے ذریعے صدر مرسی کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور بالآخر جنرل سیسی نے اقتدار پر قبضہ کرکے صدر مرسی کو معزول کردیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا۔ حالانکہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی تھی۔ اس جمہوری پارٹی نے جنرل سیسی اور اس کی فوج کی مزاحمت کی لیکن مصر کی فوج نے امریکا اور یورپ کی پشت پناہی سے عوامی احتجاج کو کچل دیا۔ مصر کی فوج نے اپنے ہی عوام پر وہ ظلم کیے جس کی مثال نہیں ملتی۔ مصری فوج نے سیاسی احتجاج کرنے والے اخوانی کارکنوں کے سروں اور سینوں پر گولیاں ماریں۔ امریکا اور یورپ نے ایک بیان بھی ایسا جاری نہیں کیا جس میں مصری فوج کے اس ظلم کی مذمت کی گئی ہو۔

ترکی کے صدر طیب اردوان ایک دلچسپ شخصیت ہیں۔ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اسلام اور سیکولر ازم میں کوئی تضاد نہیں۔ طیب اردوان کے ترکی میں جسم فروشی عام ہے۔ جگہ جگہ شراب خانہ کھلے ہوئے ہیں۔ طیب اردوان کو اس صورت حال پر کبھی تشویش میں مبتلا نہیں دیکھا گیا۔ طیب اردوان یورپی یونین کے بھی عاشق ہیں اور وہ 13 سال سے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے بیتاب ہیں۔ مگر چونکہ وہ ذاتی زندگی میں نماز روزے کے پابند ہیں اس لیے امریکا اور یورپ ان کے خلاف بھی سازشیں کرتے رہے ہیں۔ چند سال پہلے ترکی کی فوج نے طیب اردوان کے خلاف بغاوت کی تو یہ رات کا وقت تھا۔ ہم اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے۔ ہماری بڑی بیٹی نے جو اس وقت ٹی وی دیکھ رہی تھی اچانک ’’بریکنگ نیوز‘‘ دیکھ کر ہمیں بتایا کہ ترکی میں فوج نے طیب اردوان کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ ہم ٹی وی کی طرف دوڑے تو اس وقت ہماری بیٹی نے ایک ملکی چینل لگایا ہوا تھا۔ ہم نے اس سے کہا یہ پاکستانی چینل دیکھنے کا وقت نہیں فوراً سی این این لگائو۔ سی این این لگایا تو ہمارا خدشہ درست ثابت ہوا۔ سی این این پر امریکی سی آئی اے کا ایک ریٹائر افسر بیٹھا ہوا طیب اردوان کو گالیاں دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا طیب اردوان ایک ’’پوشیدہ اسلامسٹ‘‘ ہے۔ وہ ترکی میں قرآن و سنت کی بالادستی چاہتا ہے۔ چنانچہ ترکی کی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کرکے بہت اچھا کام کیا ہے۔ طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی تھی تو وہ ملک سے باہر تھے۔ انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ترکی کے عوام کو پیغام دیا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور فوج کی مزاحمت کریں۔ ترکی کے عوام اس اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں گھروں سے نکلے۔ وہ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔ انہوں نے بکتر بند گاڑیوں سے فوجیوں کو نکال نکال کر مارا اور فوجی بغاوت کو ناکام بنادیا۔ ایسا نہ ہوتا تو امریکا اور یورپ طیب اردوان کا بھی دھڑن تختہ کرچکے ہوتے۔ ایران میں چونکہ فوج امریکا یا یورپ کے زیر اثر نہیں اس لیے وہاں امریکا اور اسرائیل نے معاشی ابتری سے پیدا ہونے والے عوامی ردعمل کو ’’عوامی بغاوت‘‘ میں تبدیل کیا۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ بغاوت ناکام ہوگئی۔

یہ عمران خان کے دور کی بات ہے۔ آسیہ مسیح نام کی ایک عیسائی عورت توہین رسالت کے الزام میں جیل کاٹ رہی تھی۔ کسی مسلم ریاست کے لیے توہین رسالت سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوسکتا ہے اور کوئی مسلمان اس حوالے سے امریکا اور یورپ کے ساتھ سودے بازی نہیں کرسکتا۔ مگر یورپی یونین کے نمائندے نے پاکستان کے حکمران طبقے کو پیغام دیا کہ اگر آپ نے فوری طور پر آسیہ کو رہا نہ کیا تو یورپی یونین پاکستان کا وہ جی پی ایس Status ختم کردے گی جس کے تحت پاکستان یورپی یونین کے رکن ممالک کو چار سے پانچ ارب ڈالر کی Text Free مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

اس پیغام کا آنا تھا کہ عمران خان ہی نہیں میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل باجوہ بھی لرز اُٹھے۔ انہوں نے فوراً عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا اور چند روز ہی میں آسیہ مسیح رہا ہو کر یورپ چلی گئی۔ جہاں اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یورپ کے لیے ایک معمولی عیسائی کی جان بھی ’’مقدس‘‘ ہے اور پاکستان کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کے لیے رسول اکرمؐ کی ذات بھی مقدس نہیں ہے۔ یورپ ایک عیسائی عورت کے لیے بھی جان لڑا سکتا ہے اور ایک مسلم ریاست کا حکمران طبقہ رسول اکرمؐ کی تکریم کا بھی دفاع نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر اس صورت میں جب اسے اس سلسلے میں مغرب کی مزاحمت کرنا ہو۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہے۔ جماعت اسلامی ایک زمانے میں حکومت کا بھی حصہ رہی ہے مگر اس کے دامن پر کبھی کرپشن کا داغ نہیں لگا لیکن اس کے باوجود حسینہ واجد نے طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو پے در پے پھانسیاں دیں، انہیں جیلوں میں ٹھونسا، ان پر جھوٹے مقدمات بنائے۔ مگر جماعت اسلامی بنگلا دیش پر ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت نہیں کی۔ وہ امریکا جو ایک ملالہ کے لیے آواز اٹھاتا ہے اس نے کبھی جماعت اسلامی بنگلا دیش پر ہونے والے ظلم کے خلاف ایک احتجاجی مراسلہ بھی بنگلا دیشی سفیر کے حوالے نہیں کیا۔ جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف کو خوش گمانی ہے کہ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن امریکا نے یہ کردار اس لیے ادا کیا کہ پاکستان بھارت کو مار رہا تھا بھارت پاکستان کو مار رہا ہوتا تو ڈونلڈ ٹرمپ کبھی پاک بھارت جنگ میں مداخلت نہ کرتا۔ اس لیے کہ ٹرمپ خود بھی ایک شیطان ہے اور وہ ایک خبیث ریاست کا صدر بھی ہے۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل امریکا اور یورپ نے طیب اردوان کے جماعت اسلامی یورپی یونین ایران میں ہونے والے مسلم دنیا کی فوج نے انہوں نے کی حکومت خامنہ ای نہیں کیا کے مطابق کہ ایران کے لیے ا نہیں کی کے خلاف رہے ہیں ہی نہیں کے صدر اس لیے ہے اور مصر کی

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران