Jasarat News:
2026-06-02@23:37:01 GMT

مسلم دنیا اور مغرب کی خباثت

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

260123-03-5
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں قیادت کی تبدیلی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایران میں ’’نئی قیادت‘‘ تلاش کی جائے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی صدر کا کہنا تھا کہ آیت اللہ خامنہ ای اپنے ملک کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔ خامنہ ای ایران کو جبر اور تشدد کے ذریعے کنٹرول کررہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ قیادت کا مطلب احترام ہے۔ خوف اور موت نہیں۔ (روزنامہ جسارت، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں قیادت کی تبدیلی کا اشارہ دے کر نہیں رہ گئے بلکہ وہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی سازش کو مسلسل آگے بڑھا رہے ہیں۔ اس کا ثبوت اسرائیل کے لیے امریکا کے سابق سفیر ڈین شیپیرہ کا وہ بیان ہے کہ جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ’’ٹرمپ آئندہ ہفتے خامنہ ای کو قتل کرنے کی کوشش کریں گے‘‘۔ سابق امریکی سفیر شیپیرہ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں امریکا کے بحری بیڑے کی موجودگی ایران پر ممکنہ فضائی اور زمینی حملوں کے لیے آسانی پیدا کرے گی۔ (روزنامہ جنگ، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

بہت سے لوگ ایران میں حالیہ ہنگاموں کو ایران کا ’’داخلی معاملہ‘‘ سمجھتے ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان فسادات کی پشت پر امریکا اور اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ یہ بات ہم نہیں کہہ رہے بلکہ امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سیکس کہہ رہے ہیں۔ امریکی پروفیسر کے مطابق ایران میں ہونے والے حالیہ فسادات کے ذمے دار امریکا اور اسرائیل ہیں۔ پروفیسر جیفری کے مطابق خریدا ہوا امریکی میڈیا یہ بات نہیں بتاتا کہ ایران کی معیشت کو تباہ کرنے والا امریکا ہے۔ ہمیشہ امریکی عوام سے جھوٹ بولا جاتا ہے کہ ایرانی حکومت اپنے عوام پر ظلم کررہی ہے۔ پروفیسر جیفری کے مطابق امریکا اور اسرائیل ایران کے عوام کی زندگی کو اس لیے ابتر کرنا چاہتے ہیں تاکہ ایران میں قیادت کی تبدیلی ممکن ہوسکے۔ (روزنامہ ایکسپریس، 19 جنوری 2026ء بروز پیر)

یہ حقیقت راز نہیں کہ مسلم دنیا کے حوالے سے صرف امریکا ہی نہیں پورا یورپ بھی ایک خبیث کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکا اور یورپ کو مسلم دنیا میں کوئی ایسی قیادت درکار نہیں جو اسلام پر اصرار کرنے والی ہو۔ جو حقیقی معنوں میں جمہوری ہو اور جو حقیقی معنوں میں مسلم دنیا کو مغرب کے جبر سے آزاد کرانے کی سوچ رکھتی ہو۔ امریکا اور یورپ آزادی کے تصور کے سب سے بڑے پرستار بنتے ہیں لیکن انہیں مسلم دنیا کی سیاسی اور معاشی آزادی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ چنانچہ امریکا اور یورپ نے پوری مسلم دنیا کو اپنے سیاسی اور معاشی شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ امریکا اور یورپ نے کہیں مسلم دنیا میں بادشاہوں کو مسلط کیا ہوا ہے کہیں جرنیلوں کو اور کہیں کٹھ پتلی سیاست دانوں کو۔ 1990ء کی دہائی میں الجزائر میں انتخابات ہوئے تو اسلامی فرنٹ نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرلی۔ امریکا اور یورپ خود کو آزادی اور جمہوریت کے علمبردار کہتے ہیں۔ چنانچہ انہیں اسلامی فرنٹ کی اس کامیابی کو دل سے قبول کرنا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے الجزائر کی فوج کو اشارہ کیا اور الجزائر کی فوج اسلامی فرنٹ پر ٹوٹ پڑی۔ چنانچہ انتخابات کے دوسرے مرحلے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ الجزائر میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جو دس سال تک جاری رہی اور دس لاکھ سے زیادہ لوگوں کو نگل گئی۔ حماس اگرچہ پہلے دن سے ایک جہادی تنظیم تھی لیکن حالات کے تحت حماس نے ایک زمانہ میں ’’سیاسی جماعت‘‘ کا کردار کرتے ہوئے مقبوضہ عرب علاقوں کے انتخابات میں حصہ لیا اور بھاری اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ امریکا اور یورپ کو چاہیے تھا کہ وہ جمہوریت کے اس عمل کی حمایت کرتے ہوئے حماس کی حکومت کو تسلیم کرتے۔ لیکن اس کے برعکس امریکا اور یورپ نے حماس کی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ حالانکہ حماس کی حکومت کی کارکردگی شاندار تھی۔ اخوان المسلمون عرب دنیا کی سب سے پرانی سیاسی جماعت ہے اور اس جماعت نے مصر کے صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور اخوان کے رہنما مرسی مصر کے صدر بننے میں کامیاب ہوگئے۔ لیکن امریکا اور یورپ نے صدر مرسی کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ انہوں نے مصر کی فوج کے ذریعے صدر مرسی کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور بالآخر جنرل سیسی نے اقتدار پر قبضہ کرکے صدر مرسی کو معزول کردیا اور انہیں جیل میں ڈال دیا۔ حالانکہ اخوان المسلمون مصر کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی تھی۔ اس جمہوری پارٹی نے جنرل سیسی اور اس کی فوج کی مزاحمت کی لیکن مصر کی فوج نے امریکا اور یورپ کی پشت پناہی سے عوامی احتجاج کو کچل دیا۔ مصر کی فوج نے اپنے ہی عوام پر وہ ظلم کیے جس کی مثال نہیں ملتی۔ مصری فوج نے سیاسی احتجاج کرنے والے اخوانی کارکنوں کے سروں اور سینوں پر گولیاں ماریں۔ امریکا اور یورپ نے ایک بیان بھی ایسا جاری نہیں کیا جس میں مصری فوج کے اس ظلم کی مذمت کی گئی ہو۔

ترکی کے صدر طیب اردوان ایک دلچسپ شخصیت ہیں۔ وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اسلام اور سیکولر ازم میں کوئی تضاد نہیں۔ طیب اردوان کے ترکی میں جسم فروشی عام ہے۔ جگہ جگہ شراب خانہ کھلے ہوئے ہیں۔ طیب اردوان کو اس صورت حال پر کبھی تشویش میں مبتلا نہیں دیکھا گیا۔ طیب اردوان یورپی یونین کے بھی عاشق ہیں اور وہ 13 سال سے یورپی یونین میں شمولیت کے لیے بیتاب ہیں۔ مگر چونکہ وہ ذاتی زندگی میں نماز روزے کے پابند ہیں اس لیے امریکا اور یورپ ان کے خلاف بھی سازشیں کرتے رہے ہیں۔ چند سال پہلے ترکی کی فوج نے طیب اردوان کے خلاف بغاوت کی تو یہ رات کا وقت تھا۔ ہم اپنے کمرے میں آرام کررہے تھے۔ ہماری بڑی بیٹی نے جو اس وقت ٹی وی دیکھ رہی تھی اچانک ’’بریکنگ نیوز‘‘ دیکھ کر ہمیں بتایا کہ ترکی میں فوج نے طیب اردوان کے خلاف بغاوت کردی ہے۔ ہم ٹی وی کی طرف دوڑے تو اس وقت ہماری بیٹی نے ایک ملکی چینل لگایا ہوا تھا۔ ہم نے اس سے کہا یہ پاکستانی چینل دیکھنے کا وقت نہیں فوراً سی این این لگائو۔ سی این این لگایا تو ہمارا خدشہ درست ثابت ہوا۔ سی این این پر امریکی سی آئی اے کا ایک ریٹائر افسر بیٹھا ہوا طیب اردوان کو گالیاں دے رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا طیب اردوان ایک ’’پوشیدہ اسلامسٹ‘‘ ہے۔ وہ ترکی میں قرآن و سنت کی بالادستی چاہتا ہے۔ چنانچہ ترکی کی فوج نے اس کے خلاف بغاوت کرکے بہت اچھا کام کیا ہے۔ طیب اردوان کے خلاف فوجی بغاوت ہوئی تھی تو وہ ملک سے باہر تھے۔ انہوں نے موبائل فون کے ذریعے ترکی کے عوام کو پیغام دیا کہ وہ سڑکوں پر نکلیں اور فوج کی مزاحمت کریں۔ ترکی کے عوام اس اپیل پر ہزاروں کی تعداد میں گھروں سے نکلے۔ وہ ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے۔ انہوں نے بکتر بند گاڑیوں سے فوجیوں کو نکال نکال کر مارا اور فوجی بغاوت کو ناکام بنادیا۔ ایسا نہ ہوتا تو امریکا اور یورپ طیب اردوان کا بھی دھڑن تختہ کرچکے ہوتے۔ ایران میں چونکہ فوج امریکا یا یورپ کے زیر اثر نہیں اس لیے وہاں امریکا اور اسرائیل نے معاشی ابتری سے پیدا ہونے والے عوامی ردعمل کو ’’عوامی بغاوت‘‘ میں تبدیل کیا۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ بغاوت ناکام ہوگئی۔

یہ عمران خان کے دور کی بات ہے۔ آسیہ مسیح نام کی ایک عیسائی عورت توہین رسالت کے الزام میں جیل کاٹ رہی تھی۔ کسی مسلم ریاست کے لیے توہین رسالت سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوسکتا ہے اور کوئی مسلمان اس حوالے سے امریکا اور یورپ کے ساتھ سودے بازی نہیں کرسکتا۔ مگر یورپی یونین کے نمائندے نے پاکستان کے حکمران طبقے کو پیغام دیا کہ اگر آپ نے فوری طور پر آسیہ کو رہا نہ کیا تو یورپی یونین پاکستان کا وہ جی پی ایس Status ختم کردے گی جس کے تحت پاکستان یورپی یونین کے رکن ممالک کو چار سے پانچ ارب ڈالر کی Text Free مصنوعات برآمد کرتا ہے۔

اس پیغام کا آنا تھا کہ عمران خان ہی نہیں میاں نواز شریف اور آرمی چیف جنرل باجوہ بھی لرز اُٹھے۔ انہوں نے فوراً عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا اور چند روز ہی میں آسیہ مسیح رہا ہو کر یورپ چلی گئی۔ جہاں اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یورپ کے لیے ایک معمولی عیسائی کی جان بھی ’’مقدس‘‘ ہے اور پاکستان کے جرنیلوں اور سیاست دانوں کے لیے رسول اکرمؐ کی ذات بھی مقدس نہیں ہے۔ یورپ ایک عیسائی عورت کے لیے بھی جان لڑا سکتا ہے اور ایک مسلم ریاست کا حکمران طبقہ رسول اکرمؐ کی تکریم کا بھی دفاع نہیں کرسکتا۔ خاص طور پر اس صورت میں جب اسے اس سلسلے میں مغرب کی مزاحمت کرنا ہو۔

جماعت اسلامی بنگلا دیش کی سب سے بڑی جمہوری پارٹی ہے۔ جماعت اسلامی ایک زمانے میں حکومت کا بھی حصہ رہی ہے مگر اس کے دامن پر کبھی کرپشن کا داغ نہیں لگا لیکن اس کے باوجود حسینہ واجد نے طویل عرصے تک جماعت اسلامی کے رہنمائوں کو پے در پے پھانسیاں دیں، انہیں جیلوں میں ٹھونسا، ان پر جھوٹے مقدمات بنائے۔ مگر جماعت اسلامی بنگلا دیش پر ہونے والے ظلم و ستم کی مذمت نہیں کی۔ وہ امریکا جو ایک ملالہ کے لیے آواز اٹھاتا ہے اس نے کبھی جماعت اسلامی بنگلا دیش پر ہونے والے ظلم کے خلاف ایک احتجاجی مراسلہ بھی بنگلا دیشی سفیر کے حوالے نہیں کیا۔ جنرل عاصم منیر اور شہباز شریف کو خوش گمانی ہے کہ ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ رکوانے میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن امریکا نے یہ کردار اس لیے ادا کیا کہ پاکستان بھارت کو مار رہا تھا بھارت پاکستان کو مار رہا ہوتا تو ڈونلڈ ٹرمپ کبھی پاک بھارت جنگ میں مداخلت نہ کرتا۔ اس لیے کہ ٹرمپ خود بھی ایک شیطان ہے اور وہ ایک خبیث ریاست کا صدر بھی ہے۔

شاہنواز فاروقی سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: امریکا اور اسرائیل امریکا اور یورپ نے طیب اردوان کے جماعت اسلامی یورپی یونین ایران میں ہونے والے مسلم دنیا کی فوج نے انہوں نے کی حکومت خامنہ ای نہیں کیا کے مطابق کہ ایران کے لیے ا نہیں کی کے خلاف رہے ہیں ہی نہیں کے صدر اس لیے ہے اور مصر کی

پڑھیں:

امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان

امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔

’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔

اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں

امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔

دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔

مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔

امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔

سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔

یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔

تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان