پشاور: مصنوعی ذہانت کے جدید ترین کیمروں سے لیس سیف سٹی منصوبہ، کیا قیامِ امن میں مدد ملے گی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا حکومت نے سیف سٹی منصوبے کے تحت پشاور شہر میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے جدید کیمرے نصب کرنا شروع کر دیے ہیں، جو حکام کے مطابق مشکوک افراد کی نشاندہی کے ساتھ ساتھ پورے شہر کی نگرانی میں مدد دیں گے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ہدایت پر سال 2009 سے التوا کا شکار سیف سٹی منصوبے پر دوبارہ کام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے تحت شہر کے تمام مرکزی مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں، جبکہ پشاور پولیس لائن میں کنٹرول روم بھی قائم کر دیا گیا ہے جہاں سے ان کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب کی 98 تحصیلوں میں اسمارٹ سیف سٹیز منصوبہ نافذ کرنے کا فیصلہ
چند روز قبل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت سیف سٹیز منصوبے کی پیش رفت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں منصوبے کو رواں ماہ مکمل کرنے اور 31 جنوری کو افتتاح کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے منصوبے پر کام مزید تیز کرنے اور اسے مقررہ ٹائم لائن کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ پشاور سیف سٹی منصوبہ 31 جنوری 2026 تک مکمل کر لیا جائے گا اور اسی روز اس کا افتتاح متوقع ہے۔ جبکہ دوسرے مرحلے میں منصوبے کے تحت ڈی آئی خان میں 88، بنوں میں 76، لکی مروت میں 47، ٹانک میں 45، کرک میں 40 اور شمالی وزیرستان میں 37 مقامات پر جدید کیمرے نصب کیے جائیں گے۔
فیشل اور نمبر پلیٹ ریڈ کیمرےایس ایس پی آپریشنز پشاور فرحان خان کے مطابق پشاور میں 133 مقامات پر مجموعی طور پر 711 کیمرے لگائے جا رہے ہیں، جن میں مختلف اقسام کے جدید کیمرے شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان میں فیشل ریکگنیشن، گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ریڈ، تھرمل اور باڈی کیمرے شامل ہیں، جن کی نگرانی کنٹرول روم سے براہ راست کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے: پنجاب سیف سٹی ایپ کے نئے فیچر پر بحث اور تشویش، اصل وجہ کیا ہے؟
پولیس حکام کے مطابق سیف سٹی منصوبہ مصنوعی ذہانت سے لیس ہے۔ اس جدید نظام میں نصب کیمروں کے ذریعے فیشل ریکگنیشن اور نمبر پلیٹ ریڈ کی سہولت موجود ہو گی، جس سے مشکوک یا جرائم میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کی نشاندہی ممکن ہو گی۔ جبکہ فیشل ریکگنیشن کیمروں کے ذریعے ملزمان، مشکوک افراد اور پولیس کو مطلوب افراد کی شناخت بھی ممکن ہو سکے گی۔
پولیس کے مطابق ان کیمروں کی مدد سے چہروں اور گاڑیوں کی نمبر پلیٹس کی خودکار شناخت اور عمومی نگرانی ممکن ہو گی۔ حکام کے مطابق کسی مشکوک شخص یا گاڑی کے کسی مخصوص روٹ سے داخل ہونے کی صورت میں خودکار الرٹ جنریٹ ہو گا۔
صوبے میں مرحلہ وار توسیعصوبائی حکومت نے سیف سٹی منصوبے کو مرحلہ وار وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے مرحلے میں صوبے کے جنوبی اضلاع میں سیف سٹی منصوبے پر کام شروع کیا جائے گا، جس کے لیے صوبائی کابینہ نے 3 ارب 80 کروڑ روپے کی منظوری دی ہے، جو بنوں، ڈی آئی خان، لکی مروت اور شمالی وزیرستان میں سیف سٹی منصوبے پر خرچ کیے جائیں گے۔
کیا سیف سٹی منصوبے سے دہشت گردی میں کمی آئے گی؟پولیس حکام کے مطابق سیف سٹی منصوبہ ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے شہر میں امن و امان کے قیام میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق جدید نظام میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے پولیس کی کارکردگی بہتر ہو گی اور عوام کا پولیس سے رابطہ بھی مزید آسان ہو جائے گا۔
ایس ایس پی فرحان خان کے مطابق ان کیمروں کو 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی اور کنٹرول روم سے نگرانی ہر وقت جاری رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ان کیمروں کی مدد سے شہر میں داخلے اور اخراج کی مکمل نگرانی ممکن ہو گی اور مشکوک افراد کی نشاندہی کی صورت میں منٹوں میں ردعمل دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے: وزیر داخلہ کا سیف سٹی ہیڈکوارٹرز کا دورہ، آن لائن ویمن پولیس اسٹیشن اور ون انفوموبائل ایپ کا افتتاح
انہوں نے کہا کہ اس نظام سے پولسنگ میں بہتری آئے گی اور مشکوک افراد و گاڑیوں کی خودکار نگرانی ممکن ہو گی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف مقامات پر خصوصی الرٹ بٹن بھی نصب کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پولیس سے براہ راست رابطہ ممکن ہو گا۔
ایس ایس پی کے مطابق اگر کوئی شخص ایمرجنسی میں الرٹ بٹن دبائے گا تو پولیس کنٹرول روم سے ویڈیو رابطہ قائم کیا جائے گا، جس سے بروقت مدد فراہم کی جا سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس نظام سے جرائم پر قابو پانے اور ملزمان کی بروقت گرفتاری میں مدد ملے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس نظام سے خواتین کو بھی بروقت اور آسان مدد فراہم کی جا سکے گی۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں خواتین کو اب کسی سے مدد مانگنے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ الرٹ بٹن کے ذریعے فوری طور پر پولیس سے رابطہ ممکن ہو گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امن و امان پشاور سیف سٹی کیمرے مصنوعی ذہانت وزیراعلی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پشاور سیف سٹی کیمرے مصنوعی ذہانت وزیراعلی سیف سٹی منصوبے سیف سٹی منصوبہ حکام کے مطابق مصنوعی ذہانت مشکوک افراد کنٹرول روم جدید کیمرے ممکن ہو گی گاڑیوں کی مقامات پر ان کیمروں کی مدد سے انہوں نے بتایا کہ کے ذریعے جائے گا یہ بھی کیے جا گی اور
پڑھیں:
مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
لاہور سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں ہونےوالی مون سون کی بارش نے جل تھل ایک کردیا۔لاہور میں مون سون کا سپیل زور شور سے جاری ہے اورعلی الصبح سے ہونے والی موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔واسا لاہور کی جانب سے اب تک ہونے والی بارش کا ریکارڈ جاری کردیاگیاہے جس کے مطابق جیل روڈمیں 28.5، ایئرپورٹ میں 263، ہیڈ آفس گلبرگ میں 52، لکشمی چوک میں 25، اپر مال کے علاقے میں 114.4، مغلپورہ میں 129، تاجپورہ میں 155، نشتر ٹاؤن میں 56.4، چوک ناخدا میں 62، پانی والا تالاب میں 27.2، فرخ آباد میں 23.4، گلشن راوی میں 18، اقبال ٹاؤن میں 54.2، سمن آبادمیں 32، جوہر ٹاؤن میں 81، ڈیفنس روڈ میں 45، شادی پورہ میں 132.4 ، سگیاں میں 22.2اور مناواں میں 106 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی،سب سے زیادہ 263 ملی میٹر بارش ائیر پورٹ پر ریکارڈ کی گئی ہے ۔لاہور میں ہونےوالی موسلادھار بارش سےسیشن کورٹ میں سینئر قانون دان پیر مسعود چشتی سمیت2 وکلاء کے چیمبر گرگئے،پیر مسعود چشتی کا چیمبر کافی عرصے سے خالی پڑاتھا،چیمبر کی چھت بارش کے پانی کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اورگرگئی،شدید بارش کی وجہ سے ماتحت عدالتوں میں سائلین نہ پہنچ سکے۔ دوسری طرف آئی جی پنجاب نے پولیس کو حادثات اور ناگہانی صورتحال میں امدادی سرگرمیوں میں شرکت کی ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ پولیس افسران اور اہلکار بارش سے متاثرہ علاقوں میں انتہائی مستعد ہو کر ڈیوٹی انجام دیں،سپروائزری پولیس افسران بارش زدہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں خود مانیٹر کریں، بارش کے مزید امکانات کے پیش نظر پولیس افسران اور اہلکار الرٹ رہیں،کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ریسپانڈ کریں۔ملک کے دوسرے حصوں کی طرح ضلع خیبر کے باڑہ اور جمرود کے علاؤہ وادی تیراہ کے پہاڑوں پر بھی ہونے والی بارش سے موسم خوشگوارہوگیا لیکن ندی نالوں میں طغیانی اور دریائے باڑہ میں درمیانے درجے کا سیلاب ہے ،جولائی کے مہینے میں دسمبر جیسے سردی محسوس کی جارہی ہے،پہاڑی علاقوں میں بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آگئی ہے،ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو کی جانب سے حفاظتی انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں جبکہ ندی نالوں کے قریب جانے پر پابندی کی خلاف ورزی پر دوافرادکو گرفتار بھی کرلیاگیاہے۔