کراچی سیف سٹی پراجیکٹ 2ماہ میںفعال کر دیاجائیگا،مراد علی شاہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
شہرکی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ سندھ کی سیف سٹی کیلئے عملے کی فوری بھرتیوں کی ہدایت
34ماہر تکنیکی اور انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری، عملے کی بھرتی سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی،گفتگو
وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار اور چیف سیکریٹری آصف حیدرشاہ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ کو کراچی سیف سٹی پراجیکٹ پر ڈی جی سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز نے بریفنگ دی۔وزیراعلی سندھ نے اس موقع پر کہا کہ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ شہر کے لیے نہایت اہم ہے اور کراچی کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای چالان سسٹم کے بعد اب کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے پہلے فیز کو لانچ کیا جا رہا ہے۔سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، اس مقصد کے لیے انہوں نے ضروری عملے کی فوری بھرتی کی ہدایت جاری کی اور سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 34ماہر تکنیکی اور انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری بھی دے دی۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ عملے کی بھرتی سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی جسے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی نوٹیفائی کر چکا ہے۔ اجلاس میں وزیراعلی نے کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 200 ملین روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی بھی منظوری دے دی۔وزیراعلی سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کر کے کراچی میں امن و امان اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کراچی سیف سٹی پراجیکٹ وزیراعلی سندھ کی بھرتی جائے گا عملے کی کے لیے
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔