Juraat:
2026-07-24@02:14:48 GMT

کراچی سیف سٹی پراجیکٹ 2ماہ میںفعال کر دیاجائیگا،مراد علی شاہ

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

کراچی سیف سٹی پراجیکٹ 2ماہ میںفعال کر دیاجائیگا،مراد علی شاہ

شہرکی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،وزیر اعلیٰ سندھ کی سیف سٹی کیلئے عملے کی فوری بھرتیوں کی ہدایت
34ماہر تکنیکی اور انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری، عملے کی بھرتی سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی،گفتگو

وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا۔وزیراعلی سندھ کی زیر صدارت سندھ سیف سٹیز اتھارٹی کا اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار اور چیف سیکریٹری آصف حیدرشاہ سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔اجلاس میں وزیراعلی سندھ کو کراچی سیف سٹی پراجیکٹ پر ڈی جی سیف سٹیز اتھارٹی سرفراز نواز نے بریفنگ دی۔وزیراعلی سندھ نے اس موقع پر کہا کہ کراچی سیف سٹی پراجیکٹ شہر کے لیے نہایت اہم ہے اور کراچی کی سیکیورٹی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ای چالان سسٹم کے بعد اب کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے پہلے فیز کو لانچ کیا جا رہا ہے۔سید مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ دو ماہ کے اندر کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کو مکمل طور پر فعال کر دیا جائے گا، اس مقصد کے لیے انہوں نے ضروری عملے کی فوری بھرتی کی ہدایت جاری کی اور سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 34ماہر تکنیکی اور انتظامی افسران کی بھرتی کی منظوری بھی دے دی۔وزیراعلی سندھ نے بتایا کہ عملے کی بھرتی سلیکشن کمیٹی کے ذریعے کی جائے گی جسے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ پہلے ہی نوٹیفائی کر چکا ہے۔ اجلاس میں وزیراعلی نے کراچی سیف سٹی پراجیکٹ کے لیے 200 ملین روپے کے نظرثانی شدہ بجٹ کی بھی منظوری دے دی۔وزیراعلی سندھ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کر کے کراچی میں امن و امان اور نگرانی کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کراچی سیف سٹی پراجیکٹ وزیراعلی سندھ کی بھرتی جائے گا عملے کی کے لیے

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کراچی میں کھلے مین ہول میں گر کر 7 سالہ بچہ جاں بحق
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • کراچی میں موٹر سائيکل چوری میں ملوث خاتون گرفتار
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن