سانحہ گل پلازہ؛ ملبے سے اب صرف انسانی ہڈیاں مل رہی ہیں، کے ایم سی فائر آفیسر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کراچی:
کے ایم سی کے محکمہ فائر بریگیڈ کے فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ عمارت کے ملبے سے لاشوں کے بجائے اب صرف انسانی ہڈیاں مل رہی ہیں۔
آگ سے متاثرہ عمارت کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران فائر آفیسر نے بتایا کہ بلڈنگ کا اسٹرکچر انتہائی مخدوش ہو چکا ہے تاہم ملبے میں ممکنہ طور پر دبے افراد کی تلاش کے لیے سرچنگ آپریشن جاری ہے۔
فائر آفیسر ظفر خان نے مزید بتایا کہ 67 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور 77 افراد لاپتا ہیں جن کی تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔
انکا کہنا تھا کہ گل پلازہ کے بیسمنٹ اور ملبے کے اوپر موجود ڈیزل ٹینک میں دوبارہ لگنے والی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کا کہنا تھا کہ مسنگ پرسن کی فائنل فہرست 77 ہے، مزید کوئی لاپتا ہے تو وہ رابطہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملبے سے تلاش جاری ہے اور سرچنگ کا کام آج مکمل کر لیا جائے گا، ایس بی سی اے کی ٹیم یہاں تعینات ہے اور انکی نگرانی میں تمام کام ہو رہا ہے۔
واضح رہے کہ ریسکیو کا کام ساتویں روز بھی جاری ہے اور اب تک 85 فیصد ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا، پلازہ کے مختلف حصوں میں ریسکیو ٹیموں کا سرچنگ آپریشن رات گئے جاری رہا۔
واقعے میں 67 افراد جاں بحق ہوچکے اور 77 افراد تاحال لاپتا ہیں، 15 افراد کی شناخت کر لی گئی جبکہ 8 افراد کی شناخت ڈی این اے اور باقی لاشیں مکمل تھیں۔
پلازہ سے نکلنے والا ملبہ پاک کالونی میوہ شاہ قبرستان منتقل کیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جاری ہے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔