پاکستان کے معدنی شعبے میں تاریخی پیش رفت، ریکو ڈک منصوبہ کامیابی کی اعلی مثال بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان کے معدنی شعبے میں ایک اہم اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ریکو ڈک منصوبہ عالمی سرمایہ کاری اور اعتماد کی علامت بن کر ابھرا ہے۔ ایس آئی ایف سی کی مثر سہولت کاری اور وژن کے باعث پاکستان کے معدنی شعبے میں عالمی شراکت داری کو فروغ مل رہا ہے، جو قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہے۔
اس سلسلے میں وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں معدنیات اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔
ملاقات کے دوران کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ بیرک گولڈ کی ریکو ڈک پروجیکٹ میں کامیابی پاکستان اور کینیڈا کے درمیان معدنی تعاون کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں کینیڈین کمپنیوں کی شمولیت اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں شرکت کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
کینیڈا کی جانب سے پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026″ میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی گئی۔ یہ کانفرنس پاکستان کی معدنی صلاحیت کو عالمی سرمایہ کاروں کے سامنے پیش کرنے اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگی۔
ریکو ڈک منصوبہ نہ صرف پاکستان کے بڑے سرمایہ کاری منصوبوں میں شامل ہے بلکہ یہ ملک میں عالمی اعتماد کی ایک واضح پہچان بھی بن چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق معدنی وسائل کی ترقی سے پاکستان کو معاشی خود کفالت، صنعتی وسعت اور قومی معیشت میں طویل المدتی استحکام حاصل ہوگا۔
وزیرِ پٹرولیم کے مشیر برائے جی ایس پی ڈاکٹر حامد اشرف نے بتایا کہ جیولوجیکل سروے آف کینیڈا کے ساتھ اشتراک کے تحت معدنی نقشہ سازی عالمی معیار کے مطابق کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معدنیات کے شعبے سے متعلق تمام ٹیسٹنگ پاکستان میں ہی کی جائے گی، جس سے نہ صرف وقت کی بچت ہوگی بلکہ ملکی ریونیو میں بھی اضافہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری کے نتیجے میں پاکستان میں کان کنی کے شعبے کی ترقی قومی معیشت کی بحالی اور استحکام کی نمایاں علامت بن رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان کے ریکو ڈک
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔