سانحہ گل پلازا کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
فوٹو: سوشل میڈیا
کراچی کے سانحہ گل پلازا میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی ایسی کئی عمارتیں موجود ہیں جن میں فائر سیفٹی اور ہنگامی انخلا کے معاملے کو خاطر میں نہیں لایا گیا۔
لاہور میں کئی ایسی عمارتیں ہیں جن میں نا تو فائر سیفٹی کا انتظام ہے اور نا ہی انخلا کا مناسب راستہ ہے۔
سیکریٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کا کہنا ہے کہ صوبے میں 2 ہزار 214 عمارتوں کا سروے مکمل ہوچکا ہے جن میں سے 14 کو انتہائی مخدوش قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک لاش کی شناخت قومی شناختی کارڈ سے ہوئی تھی اور ایک لاش کی شناخت گلے میں پہنے لاکٹ سے کی گئی ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر کے مطابق ایسی ایک عمارت فیصل آباد اور 13 لاہور میں ہیں، بلڈنگ سیفٹی کوڈ کو یقینی بنائے بغیر نقصان کا اندیشہ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہر عمارت میں ہر 100 فٹ کے بعد سیڑھیاں، فائر الارم اور انخلا کا مناسب راستہ لازمی ہونا چاہئے، جنوبی ایشیا میں ریسکیو پنجاب کے پاس وہ ٹیم موجود ہے جو اقوام متحدہ سے سرٹیفائیڈ ہے۔
ڈاکٹر رضوان نصیر نے بتایا کہ آگ بجھانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال کیا جاتا ہے، عملے کی تربیت اولین ترجیح ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب میں ریسکیو 1122 کے پاس 281 فائر وہیکلز، 74 ریسکیو وہیکلز، 20 اسپیشلائزڈ فائر اینڈ ریسکیو وہیکلز اور 2 ہزار 446 ٹرینڈ فائر ریسکیورز موجود ہیں، جو ماڈرن فائر فائٹنگ کو جانتے ہیں۔
سیکریٹری ایمرجنسی سروسز پنجاب نے کہا کہ لاہور میں 23 فائر اسٹیشنز ہیں، وہ اب تک ایک کروڑ 90 لاکھ لوگوں کو ریسکیو کرچکے ہیں جبکہ 8 منٹ کا ریسپانس ٹائم بھی برقرار رکھا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کے زیادہ تر واقعات شارٹ سرکٹ، گیس لیکیج اور حفاظتی اقدامات کی کمی کے باعث پیش آتے ہیں۔
ریسکیو حکام کے مطابق اگر عمارتوں کی تعمیر کے وقت حفاظتی اقدامات کو بھی مدنظر رکھا جائے تو کسی بڑے نقصان سے بچا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.