بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی، شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کراچی:
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن بی آر ٹی منصوبوں کے تکمیل سے کراچی کے ٹرانسپورٹ کے نظام میں واضح بہتری آئے گی۔
شرجیل میمن کی زیر صدارت محکمہ ٹرانسپورٹ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی ای او ٹرانس کراچی فواد غفار سومرو، پی ڈی یلو لائن بی آر ٹی ضمیر عباسی اور ایس ایم ٹی اے کے حکام شریک ہوئے۔
اجلاس میں سندھ ماس ٹرانزٹ اتھارٹی کے حکام نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی میں مزید نئی ای وی بسز اور ای وی ٹیکسی شروع کرنے سے متعلق آگہی دی۔ سی ای او ٹرانس کراچی نے ریڈ لائن پر جاری کام پر اجلاس کو بریفنگ دی، اجلاس میں بتایا گیا کہ نیپا چورنگی کے پاس ریڈ لائن بی آر ٹی کے دونوں اطراف کام مکمل کرنے جا رہے ہیں۔
یلو لائن بی آر ٹی کے پروجیکٹ ڈائریکٹر نے اجلاس کو کام میں پیش رفت کے حوالے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ سینیٹر تاج حیدر پل کے دوسرے حصے کو منہدم کرنے کا کام جاری ہے، جلد ہی دوسرے حصے پر بھی کام شروع کیا جائے گا۔
شرجیل مین نے کہا کہ منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں، ریڈ لائن اور یلو لائن بی آر ٹی شہر کے اہم مقامات اور کاروباری مراکز کو آپس میں جوڑنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کام میں کسی بھی تاخیر سے گریز کے لئے فیلڈ لیول پر تمام مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے، جدید شہری ٹرانسپورٹ کے بغیر کسی بھی شہر کی ترقی ممکن ہی نہیں، پنک اسکوٹیز کا دوسرا مرحلہ جلد شروع کیا جائے، انہوں نے ہدایت دی کہ کراچی کے ساتھ ساتھ دیگر شہروں میں بھی پنک اسکوٹیز کی تقسیم کے پروگرام منعقد کئے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: یلو لائن بی آر ٹی ریڈ لائن
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔