وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کے انفرااسٹرکچر کی بہتری کے لیے 21 ارب روپے سے زائد کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شہر قائد کی سڑکوں سمیت دیگر انفرااسٹرکچر کی بحالی اور بہتری کے لیے مجموعی طور پر 21.53 ارب روپے کی منظوری دے دی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجم شاہ اور محکمہ بلدیات کے سینئر افسران شریک ہوئے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی کی سڑکوں کی بحالی سے شہری آمد و رفت میں بہتری آئے گی اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ اجلاس میں میئر کراچی نے شہر کی 409 خستہ حال سڑکوں کی مرمت کی تفصیلات فراہم کیں۔ 7 اضلاع میں 400 سڑکوں پر پیچ ورک اور 9 سڑکوں کی مکمل تعمیر نو کی جائے گی، جبکہ 26 بڑی سڑکوں کی بحالی کے لیے بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
صوبائی وزیر بلدیات نے بتایا کہ سڑکوں، سیوریج اور واٹر سپلائی کے منصوبوں پر مجموعی لاگت 12.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ارب روپے سڑکوں کی کے لیے
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔