عظمیٰ بخاری کا اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کے خلاف ہتکِ عزت کا کیس دائر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین قریشی کے خلاف پہلا ہتکِ عزت کا کیس دائر کر دیا ہے۔ کیس پنجاب ڈیفیمیشن ایکٹ 2024 کے تحت ڈیفیمیشن ٹریبونل لاہور میں دائر کیا گیا ہے، جس میں 8 کروڑ 40 لاکھ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات پنجاب کے مطابق نجی ٹی وی کے پروگرام میں معین قریشی کے دیے گئے بیان میں ان کے خلاف جھوٹے اور ہتک آمیز الزامات شامل تھے۔معین قریشی نے دعویٰ کیا تھا کہ عظمیٰ بخاری نے 150 سے 200 پیڈ افراد کو اسمبلی میں داخل کروایا، جسے وزیر اطلاعات نے بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیا۔یہ متنازع بیان ٹی وی اور سوشل میڈیا پر نشر ہوا اور لاکھوں افراد نے دیکھا۔ درخواست میں ویڈیو، اسکرین ریکارڈنگ اور ٹرانسکرپٹس شواہد کے طور پر جمع کرائے گئے ہیں۔وزیر اطلاعات کے مطابق جھوٹے الزامات سے ان کی عزت، وقار اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور یہ الزام بدنیتی، عناد اور غیر ذمہ دارانہ رویے کا مظہر ہے۔درخواست میں عام، تعزیری اور خصوصی ہرجانے کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ عوامی شخصیات کی ساکھ کو جھوٹے الزامات سے نقصان پہنچانا عوامی مفاد کے خلاف ہے۔ دعویٰ کا سبب 28 دسمبر 2025 کو پیدا ہوا۔ عدالت لاہور کو مکمل دائرہ اختیار حاصل ہے اور عدالتی فیس 15 ہزار روپے ادا کی گئی۔درخواست میں مدعا علیہ کے خلاف ڈگری ہرجانہ اور عدالتی اخراجات ادا کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: وزیر اطلاعات درخواست میں کے خلاف
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔