ٹرمپ کے افغان جنگ سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل کا طوفان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے افغانستان جنگ میں نیٹو افواج کے کردار سے متعلق بیان پر برطانیہ میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ برطانوی وزیر صحت اسٹیفن کنوک نے ٹرمپ کے دعوے کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ اور دیگر اتحادی ممالک ہمیشہ امریکا کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بات کے بارے میں یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو ضرورت پڑی تو نیٹو اس کے ساتھ کھڑا ہوگا یا نہیں۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ افغانستان میں نیٹو افواج محاذِ جنگ سے کچھ پیچھے رہیں۔
بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر صحت اسٹیفن کنوک نے کہا کہ یہ دعویٰ حقیقت سے کوئی مطابقت نہیں رکھتا۔
انہوں نے افغانستان میں جان دینے والے برطانوی فوجیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی افواج حب الوطنی، جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی کی اعلیٰ مثال ہیں۔ یاد رہے کہ افغانستان جنگ میں 457 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
لیبر پارٹی کی رکن پارلیمنٹ ایملی تھورن بیری نے ٹرمپ کے بیان کو ان فوجیوں کی قربانیوں کی کھلی توہین قرار دیا۔ لبرل ڈیموکریٹ پارٹی کے سربراہ سر ایڈ ڈیوی نے کہا کہ انہیں یہ حق کس نے دیا کہ وہ ان کی قربانیوں پر سوال اٹھائیں؟
وزیراعظم ٹرمپ سے بات کریں گےاسٹیفن کنوک نے کہا کہ وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر اس معاملے پر صدر ٹرمپ سے براہِ راست بات کریں گے اور واضح کریں گے کہ برطانیہ اپنی افواج پر فخر کرتا ہے۔
ہلاک ہونے والے فوجیوں کے اہل خانہ کا دکھولیم ایلڈرج کی والدہ لوسی ایلڈرج، جن کے 18 سالہ بیٹے کی افغانستان میں بم دھماکے میں موت ہوئی تھی، نے کہا کہ ٹرمپ کے الفاظ انتہائی تکلیف دہ ہیں، ہم یہ صدمہ زندگی بھر جھیلتے ہیں، اور ہمارے پیارے بالکل اگلی صفوں میں تھے۔
فوجی اور سیاسی حلقوں کی مذمتافغانستان میں خدمات انجام دینے والے قدامت پسند رکن پارلیمنٹ بین اوبیس-جیکٹی نے بھی ٹرمپ کے بیان کو افسوسناک قرار دیا۔ سابق شیڈو وزیر انصاف رابرٹ جینرک نے اسے غلط اور توہین آمیز کہا۔
یورپ کے دیگر ممالک کا ردعملڈچ وزیر خارجہ ڈیوڈ فان ویل نے ٹرمپ کے دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی افواج نے افغانستان میں امریکی فوجیوں کے ساتھ خون بہایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یہ دعویٰ دوبارہ دہرایا گیا تو حقیقت بھی بار بار بیان کرنا ہوگی۔
واضح رہے کہ امریکا نے اکتوبر 2001 میں افغانستان پر حملہ کیا تھا، جب 9/11 حملوں کے بعد نیٹو نے پہلی اور واحد بار آرٹیکل 5 نافذ کیا، جس کے تحت ایک رکن پر حملہ سب پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
2021 میں امریکی انخلا تک اتحادی افواج کے 3,500 سے زائد فوجی ہلاک ہوئے جن میں 2,461 امریکی تھے امریکا کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں برطانیہ کی تھیں
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان میں نے کہا کہ ہوئے کہا ٹرمپ کے
پڑھیں:
سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
بابر شہزاد ترک :اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری نظم و ضبط سے متعلق نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات کی سختی سے پابندی کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سرکلر کے مطابق صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے اوقاتِ کار پر عمل درآمد لازم ہوگا۔
سرکلرکے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نےبائیومیٹرک حاضری یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی ہے جبکہ افسران و اہلکاروں کو لاؤنج سوٹ یا شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ پہننے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سرکلرکے مطابق دفتری راہداریوں میں شور اور بلند آواز میں گفتگو سے گریز کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے احکامات پر عملدرآمد کیلئے باضابطہ سرکلر جاری کر دیاہے۔