پہاڑوں سے فضا تک دوڑتے روبوٹس: نئی رپورٹ نے مستقبل کی جھلک دکھا دی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس اب سائنس فکشن تک محدود نہیں رہے بلکہ دنیا بھر میں عملی طور پر مختلف شعبوں میں اپنی موجودگی درج کرانا شروع کر چکے ہیں۔
ایک جدید رپورٹ کے مطابق اے آئی پاور روبوٹس نہ صرف انسانی محنت کا بوجھ کم کر رہے ہیں بلکہ ایسے کام بھی انجام دے رہے ہیں جو ماضی میں صرف انسانوں سے منسوب سمجھے جاتے تھے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ان روبوٹس کو تجرباتی اور تجارتی بنیادوں پر استعمال کیا جا رہا ہے، جس سے مستقبل کی ایک نئی تصویر سامنے آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات میں ایک گیس اسٹیشن پر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس کا کامیاب تجربہ کیا جا رہا ہے، جہاں یہ خودکار انداز میں گاڑیوں کو فیول فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکا میں ویمو اور ٹیسلا جیسی کمپنیاں ابتدائی سطح پر خودکار ٹیکسی سروسز متعارف کرا چکی ہیں، جن میں بغیر ڈرائیور کے گاڑیاں مسافروں کو منزل تک پہنچا رہی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔
جدید رپورٹ میں جاپانی کمپنی کاواساکی کے ایک منفرد روبوٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو 4 پیروں پر مشتمل ہے اور اسے خاص طور پر دشوار گزار علاقوں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ روبوٹ سال 2050 تک نہ صرف ہموار سڑکوں بلکہ پہاڑی راستوں، پتھریلی چٹانوں اور دور دراز علاقوں میں بھی چلنے اور دوڑنے کی صلاحیت رکھے گا، جہاں عام گاڑیوں یا مشینری کا پہنچنا ممکن نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق اس قسم کے روبوٹس ریسکیو آپریشنز، معدنیات کی تلاش اور خطرناک علاقوں میں کام کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ مستقبل میں اے آئی روبوٹس صرف زمین تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ فضاؤں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے۔ ایک خودکار روبو ٹیکسی پر کام جاری ہے، جسے ابتدائی طور پر امریکا اور جاپان کے بڑے شہروں میں اوبر کی طرز پر بک کیا جا سکے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تجربات کامیاب رہے تو یہ سہولت 2030 تک عام شہریوں کے لیے دستیاب ہو سکتی ہے۔
طبی اور صنعتی شعبوں میں بھی اے آئی روبوٹس تیزی سے جگہ بنا رہے ہیں۔ صحت کے میدان میں یہ روبوٹس سرجری میں معاونت، مریضوں کے ڈیٹا کے انتظام اور بزرگ مریضوں کی دیکھ بھال جیسے کام انجام دے رہے ہیں۔
اسی طرح صنعتوں میں خودکار مشینوں اور کسٹمر سروس بوٹس کی شکل میں یہ ٹیکنالوجی پیداوار بڑھانے اور اخراجات کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے روبوٹس انسانی زندگی کا لازمی حصہ بن جائیں گے اور دنیا کے کام کرنے کے انداز کو یکسر بدل کر رکھ دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
جاپان نے شدید گرمی میں کام کرنے والے افراد کے لیے ایک منفرد ٹھنڈا کرنے والا کیبن متعارف کرا دیا ہے جسے ‘انسانی ریفریجریٹر’ کہا جا رہا ہے۔
یہ آلہ چند منٹ میں جسم کا درجہ حرارت کم کرنے میں مدد دیتا ہے اور خاص طور پر تعمیراتی شعبے، فیکٹریوں اور کھلے مقامات پر کام کرنے والے افراد کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں بڑھتی گرمی انسانی دماغ پر کیا اثر ڈال رہی ہے؟
جاپانی کمپنیوں کی تیار کردہ اس مشین کو ‘دو ہائیمون باکس’ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ایک چھوٹے کمرے یا کیبن کی طرح ہے جس میں ایک شخص داخل ہوکر گرمی سے فوری راحت حاصل کرسکتا ہے۔ اس کے اندر درجہ حرارت تقریباً 15 ڈگری سینٹی گریڈ رکھا جاتا ہے جبکہ ٹھنڈی ہوا سر، گردن، کندھوں اور کمر کی جانب پھینکی جاتی ہے۔
کمپنی کے مطابق چند منٹ کے استعمال سے جسم کو ٹھنڈک کا احساس ہونا شروع ہوجاتا ہے، جبکہ تقریباً 10 منٹ تک اس میں رہنے سے شدید گرمی کے اثرات کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہ نظام پورے کمرے کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے صرف انسان کے جسم کو ٹھنڈا کرنے پر توجہ دیتا ہے، جس سے توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریفریجریٹر سے پہلے پانی ٹھنڈا کرنے کی سعودی صحرائی ایجاد کیا تھی؟
یہ ایجاد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جاپان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید گرمی کی لہریں بڑھ رہی ہیں اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو گرمی سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔
‘دو ہائیمون باکس’ کو کاروباری اداروں کے لیے فروخت کیا جا رہا ہے اور اسے فیکٹریوں، تعمیراتی مقامات اور دیگر گرم ماحول والی جگہوں پر استعمال کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی فریج جاپان گرمی