پاک فوج کے زیر اہتمام نیشنل سکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
قومی سطح کی یہ ورکشاپ 11 سے 22 جنوری 2026 تک جاری رہی، جس میں عمائدین، اکیڈیمیا، میڈیا، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے 80 فیصد شرکاء کا تعلق خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھا جبکہ 20 فیصد نمائندگی ملک کے دیگر حصوں سے رہی، مجموعی طور پر 91 شرکاء اور پشاور کی جامعات کے 150 سکالرز نے شرکت کی۔ شرکاء کے وزیر اعظم پاکستان و دیگر ریاستی عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز منعقد کئے گئے، اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء سے خصوصی نشست میں قومی سلامتی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
پشاور:خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔
شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔
بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔
مزید پڑھیںپشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع
شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔
دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔