پاک فوج کے زیر اہتمام نیشنل سکیورٹی ورکشاپ خیبرپختونخوا اختتام پذیر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
قومی سطح کی یہ ورکشاپ 11 سے 22 جنوری 2026 تک جاری رہی، جس میں عمائدین، اکیڈیمیا، میڈیا، سیاسی قائدین، نوجوانوں اور سول سوسائٹی سمیت مختلف طبقات نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے 80 فیصد شرکاء کا تعلق خیبرپختونخوا، بالخصوص ضم شدہ اضلاع سے تھا جبکہ 20 فیصد نمائندگی ملک کے دیگر حصوں سے رہی، مجموعی طور پر 91 شرکاء اور پشاور کی جامعات کے 150 سکالرز نے شرکت کی۔ شرکاء کے وزیر اعظم پاکستان و دیگر ریاستی عہدیداران کے ساتھ خصوصی سیشنز منعقد کئے گئے، اختتامی سیشن میں کور کمانڈر پشاور نے شرکاء سے خصوصی نشست میں قومی سلامتی، گمراہ کن پروپیگنڈا اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی۔ اس موقع پر شرکاء میں اسناد تقسیم کی گئیں اور یادگارِ شہداء پر پھولوں کی چادر چڑھائی گئی، شرکاء نے دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے افواجِ پاکستان کے ساتھ غیرمتزلزل یکجہتی کے عزم کا اعادہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔