اسلامک چیمبر آف کامرس کے تحت پائیدار سیاحت پر عالمی کانفرنس، پاکستان کے لیے نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا ہوں گے: زاہد اقبال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلامک چیمبر آف کامرس کے تحت پائیدار سیاحت پر عالمی کانفرنس، پاکستان کے لیے نئے سرمایہ کاری مواقع پیدا ہوں گے: زاہد اقبال چوہدری WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام ایف پی سی سی آئی البرکہ بنک اور پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اشتراک سے کراچی میں پائیدار سیاحت کے فروغ کے لیے منعقد ہونے والی دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس و نمائش کے انعقاد پر سابق نائب صدر فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) زاہد اقبال چوہدری نے مبارکباد پیش کرتے ھوئے کہا ہے کہ اس فورم کا مقصد پائیدار سیاحت کے ذریعے معاشی ترقی کو فروغ دینا، بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا اور اسلامی دنیا سمیت پاکستان میں سیاحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور شراکت داری کے نئے مواقع پیدا کرنا تھا
زاہد اقبال چوہدری نے اس اہم فورم کے انعقاد کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامک چیمبر آف کامرس اینڈ ڈویلپمنٹ کے اس اقدام سے پاکستان کی سیاحت کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا گیا ھے بلکہ پائیدار اور کمیونٹی پر مبنی سیاحت کے ماڈل کو فروغ دے کر علاقائی معیشت اور روزگار کے مواقع کو بڑھایا گیا ھے – انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ کانفرنس او آئی سی کے 57رکن ممالک کے نجی شعبے کے درمیان مضبوط روابط قائم کرے گی اور پاکستان کو ایک پائیدار سیاحتی منزل کے طور پر عالمی سطح پر پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
زاھد اقبال چوھدری نے کہا کہ یہ فورم جس میں میڈیکل ٹورزم، ہیریٹیج مینجمنٹ، ہلال ٹورزم، ٹیکنالوجی کے استعمال اور ماحولیاتی اثرات جیسے موضوعات پر مسلم ممالک کے دانشوروں ، ماہرین ، حکومتی ذمہ داران اور بزنس کیمونٹی کے نمائندہ افراد نے شرکت کی ھے آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن کے 57 اسلامی ممالک کے درمیان مضبوط روابط کے فروغ اور پاکستان کو ایک سیاحتی منزل بنانے میں اھم سنگِ میل ثابت ھو گا –
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی گلوبل مسلم بزنس فورم کے اعزازی سرپرست مقرر چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی گلوبل مسلم بزنس فورم کے اعزازی سرپرست مقرر جی او آر گیٹ حملہ کیس: حماد اظہر، زبیر نیازی سمیت 7 ملزمان اشتہاری قرار انڈ ویجیلنٹ لینڈ پاکستان کے وفد کا پارلیمنٹ ہاؤس کا مطالعاتی دورہ شدید برفباری کے باوجود مری، نتھیا گلی اور دیگر پہاڑی علاقوں میں آئیسکو کی ٹیمیں متحرک، بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے... پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس، گل پلازہ آتشزدگی سمیت متعدد قراردادیں منظور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی امریکہ میں پارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے مؤثر نمائندگی۔
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اسلامک چیمبر آف کامرس زاہد اقبال چوہدری پائیدار سیاحت سیاحت کے کے لیے
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.