پاکستان کا غزہ امن بورڈ کا حصہ بننا خوش آئند، پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، ایکسپریس فورم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
لاہو ر:
اسٹرٹیجک تعلقات کو وسعت دینے کے لیے پاکستان کا غزہ امن بورڈ کا حصہ بننا خوش آئند ہے، ہم خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنا کردار بہتر طریقے سے کردار ادا کرسکیں گے، غزہ میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد شہادتیں ہوئیں، ٹرمپ کے امن نکات کے بعد سے غزہ میں قتل و غارت میں کمی آئی، پاکستان کو مستقبل کے لائحہ عمل کے لیے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانا چاہیے، اسرائیل کے حوالے سے بانی پاکستان کی پالیسی ہی پاکستان کی پالیسی ہے۔
ان خیالات کا اظہار ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ کاروں نے ’’غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا، فورم کی معاونت احسن کامرے نے کی۔
چیئرمین شعبہ تاریخ جامعہ پنجاب پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکات کے بعد سے فلسطین اور غزہ میں خونریزی میں کمی آئی ہے، اب ’بورڈ آف پیس‘ قائم کر دیا گیا ہے جس میں شمولیت کیلئے 60 ممالک کو دعوت دی گئی، پاکستان بھی اس کا حصہ بن گیا ہے۔
مزید پڑھیںبلدیاتی الیکشن مارچ میں متوقع، غیر جماعتی انتخابات عدالتی حکم کے منافی، ایکسپریس فورم
دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی نے کہا کہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسی ہے جس کے پیچھے گریٹر اسرائیل کی خواہش ہے، صیہونی طاقتیں مذہبی دہشت گردی کو فروغ دے رہی ہیں، ہمیں سوچ سمجھ کر آگے بڑھنا ہوگا، کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔
ماہر امور خارجہ محمد مہدی نے کہا کہ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں ترکیہ، سعودی عرب، انڈونیشیا جیسے ممالک شامل ہو رہے ہیں تو ایسے میں پاکستان کیا کرسکتا تھا، زمینی حقائق کے پیش نظر ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، روس بھی اس بورڈ میں شمولیت کا خواہاں ہے، اسرائیل کے حوالے سے قائداعظمؒ کی پالیسی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان کی کا حصہ
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔