سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی امریکہ میں پارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے مؤثر نمائندگی۔
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی امریکہ میں پارلیمانی روابط کے فروغ کے لیے مؤثر نمائندگی۔ WhatsAppFacebookTwitter 0 23 January, 2026 سب نیوز
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرفیفا کے صدر جیانی انفنٹینو کا دورہ پاکستان کا اعلان فیفا کے صدر جیانی انفنٹینو کا دورہ پاکستان کا اعلان غزہ امن بورڈ میں سنگین خطرات کی نشانیاں دیکھ رہے ہیں: نائب وزیر اعظم آئرلینڈ گل پلازہ سانحہ، ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں: سینئر فائر آفیسر ایران میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے خلاف سخت اقدامات، ملک بدری کا عمل تیز بھارت میں اقلیتوں کی نسل کشی کیخلاف آزربائیجان میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ٹرمپ نے کینیڈا سے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کی دعوت واپس لے لیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: روابط کے
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔