بنگلہ دیش نے آئی سی سی کی غیر جانب داری پر سوال اٹھادیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بنگلہ دیش نے ٹی 20 ورلڈ کپ کے میچز بھارت میں کرانے کے فیصلے پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کی غیر جانبداری پر سوال اٹھا دیا ہے اور سیکیورٹی خدشات کے باعث سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اور پاکستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ، بنگلہ دیش نے اپنی کرکٹ ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اصولی فیصلہ کرلیا
بنگلہ دیش کے ثقافتی امور کے مشیر مصطفیٰ سرور فاروقی نے فیس بک پر جاری بیان میں کہا کہ آئی سی سی سیکیورٹی معاملات میں دوہرا معیار اپنائے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت اور پاکستان سے متعلق سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، جبکہ بنگلہ دیش کے تحفظات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
مصطفیٰ سرور فاروقی نے بھارتی میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں افراد کو بنگلہ دیشی ہونے کے شبہے میں تشدد کا نشانہ بنا کر ہلاک کیا گیا۔ انہوں نے خاص طور پر ایک ایسے مسلمان شخص کے قتل کا ذکر کیا جو مغربی بنگال میں پیدا ہوا تھا مگر بنگلہ دیشی سمجھ کر مارا گیا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے بھی آئی سی سی سے باضابطہ طور پر درخواست کی تھی کہ ٹی 20 ورلڈ کپ میں بنگلہ دیش کے میچز بھارت کے بجائے سری لنکا منتقل کیے جائیں۔ بورڈ کا مؤقف تھا کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں، آفیشلز، شائقین اور صحافیوں کی سیکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی20 ورلڈ کپ میں شرکت کے لیے بنگلہ دیش معجزے کی تلاش میں
تاہم آئی سی سی نے یہ درخواست مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کوئی مخصوص سیکیورٹی خطرہ موجود نہیں اور بنگلہ دیش کو اپنے میچز بھارت ہی میں کھیلنے ہوں گے۔ اس فیصلے کے بعد بنگلہ دیشی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔
مصطفیٰ سرور فاروقی نے بھارتی سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی خدشات کا حوالہ دیا، جن میں ممبئی میں بنگلہ دیش اور بھارت کے میچ پر تحفظات شامل ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت میں بنگلہ دیش مخالف نفرت انگیز مہم طویل عرصے سے جاری ہے، جس کا نتیجہ حال ہی میں بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کی صورت میں سامنے آیا۔
فاروقی کے مطابق آئی سی سی کی جانب سے کرائے گئے اندرونی اور آزاد سیکیورٹی جائزوں میں بھی یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ اگر بنگلہ دیشی ٹیم قومی رنگوں میں میدان میں اتری اور مستفیض الرحمان اسکواڈ کا حصہ رہے تو سیکیورٹی خطرہ درمیانے سے زیادہ سطح کا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کا ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا اعلان، شاہد آفریدی بول پڑے
ان کا کہنا تھا کہ اگر آئی سی سی خود کو واقعی ایک منصف اور غیر جانبدار عالمی ادارہ ثابت کرنا چاہتی ہے تو اسے بنگلہ دیش کے سیکیورٹی خدشات کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے میچز سری لنکا منتقل کرنے چاہئیں، کیونکہ اب غیر جانبداری ثابت کرنے کی ذمہ داری آئی سی سی پر عائد ہوتی ہے۔
اس سے قبل کھیلوں کے مشیر آصف نذرالاسلام نے بھی آئی سی سی پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بنگلہ دیش کے تحفظات پر منصفانہ رویہ اختیار نہیں کیا گیا اور بھارتی حکومت کی جانب سے سیکیورٹی کے حوالے سے کوئی قابلِ اعتماد یقین دہانی سامنے نہیں آئی۔
اس تنازع کے باعث یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بنگلہ دیش بھارت میں ٹی 20 ورلڈ کپ میچز کھیلنے سے انکار کر سکتا ہے، جس سے عالمی کرکٹ میں ایک بڑا تنازع جنم لے سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news آئی سی سی بنگلہ دیش.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش سیکیورٹی خدشات میں بنگلہ دیش کہ بنگلہ دیش بنگلہ دیش کے بنگلہ دیشی بھارت میں کہ بھارت ورلڈ کپ تھا کہ
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔