Jasarat News:
2026-06-03@01:14:29 GMT

سندھ حکومت نے گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کر دیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: سندھ حکومت نے آتشزدگی سے شدید متاثر ہونے والے گل پلازہ کو ازسرِنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر حکومتی بجٹ سے کی جائے گی اور منصوبہ ایک سال کے اندر مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت سندھ نے تعمیراتی عمل کے لیے ماہرینِ تعمیرات اور تکنیکی مشیروں کی خدمات حاصل کر لی ہیں تاکہ نئی عمارت کو جدید حفاظتی اور فنی معیار کے مطابق تعمیر کیا جا سکے، تعمیر مکمل ہونے کے بعد گل پلازہ کی تمام دکانیں اصل الاٹیز کے حوالے کی جائیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے متاثرہ تاجروں کے معاشی نقصان کو کم کرنے کے لیے عبوری انتظامات بھی شروع کر دیے ہیں، گل پلازہ کی تعمیر کے عرصے کے دوران متاثرہ دکانداروں کو عارضی طور پر کاروبار جاری رکھنے کے لیے متبادل مقامات فراہم کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق عارضی کاروباری سرگرمیوں کے لیے شہر میں تین مختلف مقامات کا انتخاب کر لیا گیا ہے، جہاں متاثرین کو سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ ان کا روزگار متاثر نہ ہو۔

واضح رہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے نے نہ صرف قیمتی جانوں کا نقصان کیا بلکہ درجنوں خاندانوں کے روزگار کو بھی شدید متاثر کیا، جس کے بعد صوبائی حکومت پر متاثرین کی بحالی کے لیے فوری اقدامات کا دباؤ بڑھ گیا تھا۔

ویب ڈیسک دانیال عدنان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گل پلازہ کے لیے

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان 
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان