5 سال کے اندر اے آئی ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت کو پیچھے چھوڑ دے گی: ایلون مسک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) کے حوالے سے ایک حیران کن اور سنجیدہ پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2026 کے آخر تک یہ ٹیکنالوجی انسانی ذہانت سے آگے نکل جائے گی۔
ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب کے دوران ٹیکنالوجی کے ماہر ایلون مسک نے بتایا کہ اے آئی میں تیز رفتاری سے ہونے والی ترقی مستقبل قریب میں انسانی قابلیت کے معیار کو بہت جلد پیچھے چھوڑ سکتی ہے، موجودہ رفتار اور جدت کو دیکھتے ہوئے ممکن ہے کہ صرف پانچ سال کے اندر اے آئی ٹیکنالوجی تمام انسانوں کی مجموعی ذہانت سے آگے نکل جائے۔
ایلون مسک نے مزید کہا کہ میں نہیں جانتا کہ اگلے دس برسوں میں کیا ہوگا، لیکن اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو اس سال کے آخر تک اے آئی کسی بھی انسان سے زیادہ ذہین ہو جائے گا۔ ممکنہ طور پر 2030 یا 2031 تک یہ ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کو مکمل طور پر پیچھے چھوڑ دے گی۔
انہوں نے روبوٹکس اور اے آئی کے امتزاج کے ذریعے معیشت میں بے مثال توسیع کی پیشگوئی کی اور کہا کہ انسانی طرز زندگی میں روبوٹز بہت جلد روزمرہ کے کاموں کا حصہ بن جائیں گے۔
ان کا کہا تھا کہ اگلے برس کے آخر تک عام صارفین کے لیے انسان نما روبوٹ دستیاب ہوں گے، جو اے آئی کے ذریعے انسانی ضروریات کو پورا کریں گے۔
مسک نے انتباہ کیا کہ مستقبل میں روبوٹز کی تعداد انسانوں سے بڑھ جائے گی اور انہیں اپنانا ہر فرد کے لیے ناگزیر ہوگا، جس سے انسانی محنت اور ضروریات میں نمایاں تبدیلی آئے گی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹیسلا، اسپیس ایکس اور اسٹار لنک کا مشن بنیادی طور پر انسانیت کے مستقبل کو بہتر بنانے اور روزمرہ زندگی میں ٹیکنالوجی کے مثبت اثرات کو فروغ دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی خدمت، فوری انصاف، مؤثر گورننس اور شفاف احتساب کے ذریعے وزیراعلیٰ سندھ کے عوام دوست وڑن کو مزید مضبوط بنایا جائے گا، جبکہ تمام متعلقہ محکمے شہریوں کے مسائل کے بروقت، پائیدار اور مؤثر حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں ادا کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے وزیراعلیٰ سندھ کے مرکزی شکایات سینٹر کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ٹیلیفون پر شہریوں کی شکایات اور مسائل براہِ راست سنے اور مختلف سرکاری محکموں سے متعلق موصول ہونے والی درخواستوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعلقہ افسران کو شکایات کے فوری، شفاف اور مؤثر ازالے کے لیے ضروری ہدایات بھی جاری کی گئیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ عوامی مسائل کے حل میں غیر ضروری تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور تمام متعلقہ ادارے مقررہ مدت کے اندر شکایات کے ازالے کو یقینی بناتے ہوئے اپنی تعمیلی رپورٹس پیش کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کو بروقت ریلیف کی فراہمی حکومت سندھ کی اولین ترجیح ہے اور ہر جائز شکایت پر فوری، منصفانہ اور مؤثر کارروائی کی جائے گی۔
ضیاء الحسن لنجار نے کہا کہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے چکر لگانے پر مجبور کرنے کے بجائے ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے مسائل ان کی دہلیز پر حل کریں۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ درخواست گزاروں کو ہر شکایت پر ہونے والی عملی پیش رفت سے باقاعدگی سے آگاہ رکھا جائے تاکہ عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شکایات کے ازالے میں غفلت، لاپرواہی یا غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے والے افسران کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت صرف ایک انتظامی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت کی بنیادی ترجیح ہے، جس کے لیے تمام متعلقہ محکموں کو جوابدہی اور اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔