پاکستان کے معدنی شعبے میں تاریخی پیش رفت، ریکوڈک منصوبہ کامیابی کی اعلیٰ مثال
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ایس آئی ایف سی کی سہولت کاری اور وژن پاکستان کے معدنی شعبے میں عالمی شراکت داری کو فروغ دے رہے ہیں، معدنیات کے شعبے میں پاکستان کی بڑی کامیابی قومی معیشت کے لیے روشن مستقبل کی نوید ہے۔وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور کینیڈا کے ہائی کمشنر طارق علی خان کے درمیان اہم ملاقات ہوئی جس میں معدنیات اور توانائی، سرمایہ کاری اور تکنیکی شراکت داری پر اتفاق کیا گیا۔کینیڈین ہائی کمشنر طارق علی خان نے کہا کہ برک گولڈ کی ریکو ڈک پروجیکٹ میں کامیابی پاکستان-کینیڈا معدنی تعاون کے لیے مضبوط بنیاد ہے۔انہوں نے پاکستان میں معدنی شعبہ میں کمپنیوں کی شمولیت اور پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم میں حصہ لینے کے عزم کا اعادہ کیا۔کینیڈا کی جانب سے پاکستان کو دنیا کی سب سے بڑی معدنیاتی کانفرنس ” پراسپیکٹرز اینڈ ڈیولپرز ایسوسی ایشن آف کینیڈا 2026″ میں شرکت کی دعوت دی.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: پاکستان کی کے لیے
پڑھیں:
ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ مجوزہ معاہدے پر نظرثانی کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت گر گئی ہے۔
غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ ایران کی جانب سے امریکی مجوزہ معاہدے کا جائزہ لینے کی ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں جو پہلے سیشن میں بلند ہوگئی تھیں۔
عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 0.69 ڈالر یا 0.7 فیصد کمی کے ساتھ 94.29 ڈالر فی بیرل اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمت 0.82 ڈالر یا 0.9 فیصد کمی کے بعد 91.34 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
گزشتہ کے اواخر میں امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی امیدوں کی توقعات پر تیل کی قیمت 16 فیصد سے زیادہ کمی آئی تھی لیکن گزشتہ روز برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس کی قیمتوں میں بالترتیب 3 اور 5 فیصد اضافہ ہوگیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان میں کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور اگلے ہفتے کے بعد جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے معاہدہ ہوسکتا ہے۔
ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ عارضی امریکا تجاویز پر تاحال ایران کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے تاہم جائزہ لیا جا رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت کی رپورٹس کے باوجود آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی بدستور محدود ہے اور ماہرین نے تیل کے سرمایہ کاروں کے لیے یہ خطرناک قرار دیا ہے۔