سیکیورٹی ذرائع نے امریکی صدر کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے 8 بڑے ممالک کے ساتھ مل کر بورڈ میں شرکت کا فیصلہ کیا، پاک فوج حماس کو غیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق عسکری ذرائع نے اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے غزہ امن بورڈ میں شرکت کا فیصلہ 8 بڑے اسلامی ممالک سے مشاورت کے بعد بہت سوچ سمجھ کر کیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے صرف امریکا ہی روک سکتا ہے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ غزہ امن بورڈ کے تحت پاکستان کی فوج حماس کوغیر مسلح کرنے یا فلسطین سمیت کسی مسلمان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ جہاں چین ہو وہاں ہمیں فکر نہیں ہوتی اور جہاں ہم ہوں وہاں چین کو فکر نہیں ہوتی، ہماری دوستی ہے، برطانیہ، یورپ سب امریکا کے اتحادی ہیں، انہوں نے اپنے فیصلے خودکرنے ہیں۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ معرکہ حق میں تمام فیصلے وزیراعظم نے کیے بس فوج نے اپنی ان پٹ دی، سات مئی کو بھارتی ڈی جی ملٹری آپریشنز کا میسج آیا ہم نے جو جواب دیا اس سے انہیں آگ لگ گئی تھی، پاکستانی فوج کا اپنا ایک فیصلہ ہے کہ ہم نے کیسے جواب دینا ہے اور ہم نے دیا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ ملک سے دہشت گردی تب ختم ہوگی جب نیت ٹھیک ہو گی، نیشنل ایکشن پلان کا پہلا نکتہ فوجی آپریشن ہے جو کر رہے ہیں، بلوچستان میں سب سے زیادہ آپریشنز ہورہے ہیں۔

مزید پڑھیں

غزہ میں امن : پاکستان نے بھی بورڈ آف پیس پر دستخط کردیے

پاکستان سمیت دیگر اسلامی ممالک نے غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا

ڈیوس: وزیراعظم شہباز شریف سے گفتگو کے دوران ٹرمپ کا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی طرف اشارہ، ویڈیو وائرل

عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں گورننس بہتر نہیں چل رہی، وہاں 3300 ملازمین ہیں جو پورا نہیں اتر پارہے۔ عسکری ذرائع نے کہا کہ طالبان کو بتایا ہے کہ ہم معافی نہیں دیں گے، ہمیں انہیں ٹھیک کرنا ہے۔

اس کے علاوہ عسکری ذرائع نے کہا کہ آزادکشمیر میں کلیئر کر لیں، کشمیر بنے گا پاکستان، پاکستانی فوج اور عوام میں دراڑ ڈالنے والے کے ذہنی مریض ہونے کے موقف پر قائم ہیں جبکہ ہم کسی جماعت کے حامی یا مخالف نہیں مگر جو پاکستان کے خلاف سوچے گا وہ نہیں چل سکتا۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ پاکستان سے اوپر کسی کی ذات یا سیاست نہیں ہو سکتی اور یہ بات طے ہوچکی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عسکری ذرائع نے کہا کہ یواے اے اور انڈیا کے معاہدے سے کوئی مسئلہ نہیں، یو اے ای ہمارا بہت اچھا دوست ہے، ہمیں اس پر کوئی شک نہیں، ہمارے بنگلہ دیش کے ساتھ پہلے کیسے تعلقات تھے اور اب کیسے ہیں دنیا دیکھ رہی ہے، ہمارا دوست جہاں بیٹھا ہوگا وہاں کوئی غلط بات کرے گا تو ہمارا دوست بتائے گا ٹھیک کیا ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ خیبرپختونخو ا کی انسداد دہشت گردی عدالتوں میں اس وقت دو ہزار نوسو اڑسٹھ کیس زیر التواء ہیں، تین سال سے زیادہ عرصہ سے ٹوٹل چھ سو ستاتر اور صرف خیبرپختونخوا میں چھ سو اکیس کیسز التواء میں ہیں، کے پی کے پولیس بہت بہادر ہے مگر اسے فری ہینڈ ملے تو وہ کام کر سکتی ہے۔

عسکری ذرائع نے کہا کہ کے پی کے میں آپریشن نہ کریں توکیا اسے نورولی محسود کے حوالے کر دیں؟ کے پی کے میں وزیراعلیٰ اورکورکمانڈر مل کر کام کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عسکری ذرائع نے کہا کہ بورڈ ا ف پیس

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم