گل پلازہ کی آگ میں 80افراد جاں بحق، 86لاپتا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں
جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر جنوبی کی میڈیا سے گفتگو
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی، تقریباً80افراد جاں بحق ہوئے،86افراد لاپتا ہیں۔جاوید نبی کھوسو نے میڈیا کو بتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لیے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا، اتنی بڑی آگ ہے، صرف شارٹ سرکٹ کا کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے مکمل تحقیقات ہوں گی۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کون سے دروازے بند تھے کون سے کھلے تھے، اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوئوں سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک تقریبا 80 انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں، لاپتہ افراد کی فہرست میں 86 افراد کے ناموں کا اندراج کرایا گیا ہے، اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 14 افراد کی شناخت ہوچکی ہے۔جس میں ڈی این اے سے 8 افراد کی شناخت ہوئی یے، 48 افراد کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ملبے کے نیچے سے ممکنہ لاشوں کو نکالنے کے لیے آپریشن جاری ہے، مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا، عمارت میں ریسکیو اہلکار دوبارہ داخل ہوئے ہیں، مشینری کے استعمال سے عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ پوری عمارت کو ایک بار پھر سرچ کیا جارہا ہے، ملبے کے باعث عمارت کے گرنے والے حصوں میں سرچنگ نہیں کی جاسکتی، ملبہ ہٹنے کے بعد گرنے والے حصے میں سرچنگ کا عمل کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنرنے کہاکہ لاشوں اور اہلخانہ کے ڈی این اے سیمپل لیے جارہے ہیں، چند اعضا ایسے ہیں جن کا ڈی این اے مشکل ہے۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ عمارت کے دروازے کیوں بند تھے تحقیقات کررہے ہیں، تحقیقات سے متعلق مختلف لوگوں کے بیانات لیے گئے ہیں، اس کے علاوہ جن عمارتوں میں فائر سیفٹی انتظامات نہیں انہیں نوٹس جاری کررہے ہیں، فائر سیفٹی نہ ہونے پر 6 عمارتوں کو نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔ڈی سی سائوتھ جاوید نبی کھوسو نے کہا کہ بتایا کہ گل پلازہ میں ریسکیو 1122 کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت کو مسمار کر دیا جائے گا۔جاوید نبی کھوسو نے بتایا کہ عمارت کومسمار کرنے کی ذمہ داری ایس بی سی اے کی ہوگی، ایس بی سی اے کی رپورٹ میں عمارت کو خطرناک اور ناقابل استعمال قرار دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: جاوید نبی کھوسو نے ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ گل پلازہ بتایا کہ انہوں نے عمارت کو جائے گا
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔